پبلک وپرائیویٹ زرعی سیکٹرز کے فورمز ہوں یا دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس ہوں یا پھر ذرائع ابلاغ کے مختلف پلیٹ فارمز جب بھی ہم کپاس سے متعلق اہل علم و زرعی ماہرین کو سنتے اور بولتے دیکھتے ہیں تو اکثر زراعت سے وابستہ ایکسپرٹس کو قومی معیشت میں کپاس کی ضرورت و اہمیت،ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس سے حاصل ہونے والا زر مبادلہ، کپاس کی پیداوار میں کمی ، فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، کپاس کی امدادی قیمت کے تعین،زرعی مداخل اور ان کی قیمتوں میں کمی، کپاس کے کاشتکاروں کے لئے مختلف مراعات اور سبسڈی کے مطالبات اور قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام میں کپاس کو شامل کرنے جیسے موضوعات کو زیر بحث ہی لاتے دیکھا گیا ہے۔ جو کہ بہت اہم اور اچھی بات ہے ۔کپاس کی فصل میں بہتری ، اسے منافع بخش بنانے اور کسانوں کی خوشحالی سے ہی ہمارے معاشی مسائل دور ہو سکتے ہیں اور ملک درست سمت میں ترقی کی مسافتیں طے کر سکتا ہے۔مذکورہ مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ڈھونڈنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کپاس سے متعلقہ ان سب باتوں کے بیچ موضوع گفتگو میںایک اہم بات کا سقم رہ جاتا ہے جس پر بہت ہی کم بات ہوتی ہے جو کہ بہت توجہ طلب نقطہ ہے وہ ہے کپاس کے تحقیقاتی ادارے اور ان میں کام کرنے والے زرعی سائنسدانوں کوسالہا سال سے درپیش مسائل جن پرتوجہ دینے اور عقدہ کشائی کی فی الفور ضرورت ہے۔ کپاس کے مسائل اور چیلنجز سے نپٹنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانا جس قدر ضروری تصور کئے جانا ضروری ہیں وہیں پر کپاس پر تحقیق کرنے والے اداروں اور ان میں کام کرنے والے زرعی سائنسدانوں کے مسائل بھی مختلف فورمز پر ڈسکس کرنا اور ان مسائل کو دور کرنے کے لئے
باقاعدہ حکمت عملی تیار کرنا بھی اتنا ہی لازم ہے۔
پاکستان میںاس وقت کپاس کے تحقیقی میدان میں وفاقی و صوبائی سطح پر مختلف ادارے کام کر رہے ہیں جن میں سب سے بڑا کپاس کا تحقیقی ادارہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ہے۔ملکی سطح پر کپاس کے میدان میں تحقیق وترقی کو فروغ دےنے اور ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنے کے لئے کاٹن سیس ایکٹ1923 کے تحت حکومت پاکستان کے توسط سے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) جیسا اہم قومی نوعیت کا ادارہ 1948میں تشکیل دیا گیا۔پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی قومی سطح پر روئی کی تحقیق اور ترقیاتی پروگراموں کو انجام دینے والا واحد قومی ادارہ ہے۔ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے گورننگ بورڈمیں پبلک وپرائیویٹ اداروں سے تعلق رکھنے والے ممبران کی تعداد اس وقت سترہ ہے۔ اس بورڈ میں پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز کے نمائندوں کے علاوہ چاروں صوبوں سے نامور ترقی پسند کاشتکاروں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے بنیادی مقاصد میں کپاس کی تحقیق و ترقی سے متعلق تمام پہلوﺅں سے کپاس کی فصل کی ترویج و ترقی ہے ۔ کپاس کی نئی نئی اقسام تیار کرنا،کپاس کی پیداوار ی ٹیکنالوجی پر تحقیق،اس کی مارکیٹنگ،مینو فیکچرنگ، کپاس کے اعداد و شمار اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے کپاس سے متعلق ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا جہاں سب یکجا ہو کرملکی کپاس اور کپاس کی مصنوعات پر سیر حاصل گفتگو کر سکیں اور مناسب حکمت عملی تشکیل پائی جا سکے،صوبائی حکومتوں کے ساتھ کپا س کی تحقیق و ترویج میں تکنیکی و غیر تکنیکی معاونت فراہم کرنا ،کپاس پرتحقیقات اور ترقیاتی پروگراموں کے نفاذ اور نگرانی میں وزارت خوراک برائے قومی تحفظ وتحقیق کی مددکی فراہمی وغیرہ پی سی سی سی کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ بنیادی
مقاصد کے حصول کے لئے پی سی سی سی کے تین بڑے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کاٹن ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی ،سنٹرل کاٹن ریسرچ
انسٹیٹیوٹ ملتان اور سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ،سندھ قائم کئے گئے اور ساتھ ہی کپاس کے فروغ کے لئے چاروں صوبوں میں مختلف مقامات پر کاٹن ریسرچ اسٹیشنز قائم کئے گئے۔پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ملک کی وہ واحد کپاس کی درسگاہ ہے جہاں سے نہ صرف پاکستان کے مختلف سرکاری و نجی کپاس کے تحقیقاتی اداروں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے کپاس کے ماہرین نے کمیٹی کے زرعی سائنسدانوں سے کپاس کے تحقیقی میدان میں عملی تربیت حاصل کی ہے۔ پی سی سی سی کے سائنسدانوں نے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں کپاس کو فروغ دینے اور کپاس کو درپیش نئے نئے
مسائل سے نپٹنے کے لئے اپنے تحقیقی و ترویجی پروگرامز کے ذریعے ان کے حل تلاش کئے ہیں اور تا حال تحقیق کا یہ عمل تند ہی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی نے اب تک ملک بھر میں کاشتکاروں کے لئے عام کاشت کے لئے 55 کپاس کی اقسام متعارف کرائی ہیں جبکہ کپاس کی ایک قسم کو تیار کرنے میں10سے12سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں کاٹن کی پیداوار 1947-48 میں1.7ملین گانٹھیں تھیں جو کہ بڑھ کر 1992 میں 12.8 ملین گانٹھوں کی ریکارڈ کی پیداوارتک پہنچ گئیں۔2004-05میں 14.2 ملین گانٹھوں اور 2014-15 میں 14.4 ملین گانٹھوں کی
پیداوار حاصل کی۔ یہ صرف پی سی سی سی کے سائنس دانوں کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تیار کردہ کپاس کی اقسام ہر سال نیشنل کو آر ڈینیٹڈ ورائٹل ٹرائل NCVTمیں پہلے اور دوسرے سال کے نتائج کے اعتبار سے نمایاں پوزیشنز حاصل کرتی چلی آ رہی ہیں جو کہ پی سی سی سی کی
بہترین کارکردگی کا حقیقت پسندانہ پیمانہ ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی شدید مالی وانتظامی طور پر مشکلات کا شکار ہے.
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پی سی سی سی کے ملازمین کو گورمنٹ آف پاکستان تنخواہ و پینشن کی ادائیگی کی ذمہ دار ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا ذریعہ آمدن کاٹن سیس ہے جو کہ 50روپے فی گانٹھ 170 kg)روئی)ہے۔ یہ رقم کاٹن سیس ایکٹ کے تحت ملک میں موجود تمام ٹیکسٹائل ملز پی سی سی سی کو دینے کی مجاز ہیں۔ اس فنڈز سے حاصل ہونے والی آمدن ملکی سطح پر کپاس کی تحقیق و ترقی پر خرچ ہوتی ہے۔ بادی النظر میں50روپے فی گانٹھ کی ادائیگی ٹیکسٹائل ملز ہی ادا کرتی ہیں مگر در حقیقت یہ عام صارف کی جیب ہی سی وصول ہوتا ہے یہ فنڈز زرعی تحقیق کے لئے نا کافی ہے جبکہ گزشتہ تین برسوں سے
ٹیکسٹائل ملزنے کاٹن سیس کی ادائیگی بند کی ہوئی ہے جس سے پی سی سی سی کی مالی مشکلات میں بہت حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز اپنے ذمہ پی سی سی سی کی واجب الادا کاٹن سیس کی رقم جو تقریبا ً 2 ارب روپے بنتی ہے ریلیز کر دیتی ہے تو پی سی سی سی کی مالی مشکلات کافی حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ ارباب اختیار کو اس معاملے میں فوری اقدام اٹھانے کی ضرروت ہے کیونکہ جب تک ریسرچ پر سرمایہ کاری نہیں ہوگی اور زرعی سائنسدانوں کی مشکلات کو دور نہیں کیا جائے گا تو پھر تحقیق کے مثبت ثمرات حاصل نہیں ہو سکتے۔
پی سی سی سی کے حاضر سروس زرعی ماہرین و دیگر اسٹاف اور پینشنرز آج2020میں بھی سال2017کی تنخواہ پر گذارہ کر رہے ہیں۔مہنگائی کے تناسب سے ملکی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ کے حکومتی اعلانات کے باوجود پی سی سی سی کے ریٹائرڈ و حاضر سروس ملازمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشنزکی جانب سے کاٹن سیس کی ادائیگی نہ کرنے پر گزشتہ دو سالوں کے ایڈ ہاک ریلیف سے محروم پرانی تنخواہ پر گزاراہ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اب تیسرا بجٹ بھی سر پر آن پہچا ہے
اورمہنگائی کا طوفان روز بروز بڑھتاجا رہا ہے۔ اگر آسامیوں کی بات کی جائے تو پی سی سی سی میں کلیدی پوسٹوں سے لے کر درجہ چہارم تک کی سینکڑوں آسامیاں
سالہا سال سے خالی پڑی ہیں جبکہ چند کلیدی پوسٹوں پر سالہا سال سے اضافی چارج پر آفیسران کام کر رہے ہیں ۔ مخدوش مالی وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باجود پی سی سی سی کے زرعی سائنسدان شب وروز کپاس کی تحقیقاتی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ پی سی سی سی جیسے قومی اہمیت کے حامل ادارے کے زرعی سائنسدانوں کے لئے آج تک سروس سٹرکچر بن سکا ہے اور نہ ہی دیگر اداروں کی طرح ان کے ملازمین کے لئے
کے پی آئی بنائے گئے ہیں۔ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجودپروموشنز سے محروم بہت سے زرعی سائنسدان ایک ہی سکیل میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ مگر افسوس ماضی کی کسی حکومت نے پی سی سی سی کی بہتری کے لئے کوئی توجہ نہ دی اور قومی اہمیت کا یہ ادارہ آج بھی کسی مسیحا کا منتظر نظر آتا ہے۔ اب جبکہ موجودہ حکومت نے کپاس کو زرعی ایمر جینسی پروگرام میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے تو یہ ایک بڑی اچھی خبر ہے۔ امید ہے تحریک انصاف کی حکومت پی سی سی سی کے مالی وسائل کے حل کے لئے اور اس کی تنظیم نو اور اس کی تشکیل میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے زرعی سائنسدانوں کی فلاح و بہبود کے لئے فوری طور پرمﺅثر
اور جامع پالیسی کا اجراءکرے گی۔ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تنظیم نو اور اصلاحات کے لئے ارباب اختیار کی نظر یہاں چند تجاویز پیش خدمت ہیں:
٭پی سی سی سی ایکٹ1972اسٹاف سروس رولز کی روشنی میں فوری طور پر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور کوٹہ سسٹم کے تحت ملازمین کی 50فیصد خالی آسامیوں کو فی الفور پر کی جائیں اور بقیہ کی خالی آسامیوں کی تشہیر کے لئے اخبارات کے ذریعے نئی بھرتیوں کا عمل مکمل کیا جائے۔٭ پی سی سی سی کے ریگولرملازمین کے لئے محکمانہ پروموشنز کا کوٹہ50فیصد سے بڑھا کر70فیصد کیا جائے اور بقیہ30فیصد کنٹریکٹ پر بھرتی کی جائیں ۔٭ ملازمین کے لئے سروس سٹریکچر کو یقینی بنائے جیسا کہ ملک میں دیگر ریسرچ کے اداروں کے ملازمین کے موجود ہیں ان کے متوازی سروس سٹرکچر کا اجراءبہت ضروری ہے۔٭ ملازمین کی کارکردگی جانچنے کا ایک معیاری پیمانہ مقرر کیا جائے اور مقررہ مدت کے بعد ملازمین کی پرفارمینس کو جانچا جائے اور اس بنیاد پر ترقی دی جائے۔٭ پی سی سی سی کا سسٹم کچھ اس طرح تشکیل دیا جائے کہ ملازمین کے مابین کارکردگی دکھانے کے حوالہ سے ایک مسابقتی فضاءقائم کی جائے جوبندہ زیادہ اچھا کام کرے ان کے لئے ترقی کے مواقع دیگر افراد کے مقابلہ میں زیادہ ہونے چاہئیں۔٭ حکومت پی سی سی سی ملازمین کی تنخواہ اور پینشن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اپنی ضمانت دے جبکہ کاٹن سیس کی کولیکشن اپنے ذمہ لےکر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کپاس کی تحقیق پر خرچ کرے۔٭حکومت پی سی سی سی ملازمین کے لئے حکومتی بجٹ میں اعلان کردہ فی الفور گزشتہ دوسالوں کے ایڈہاک ریلیف کی رقم کی فراہمی یقنی بنائے۔٭ گزشتہ5سال سے کام
کرنے والے ایڈہاک ریلیف ملازمین کو مستقل کیا جائے۔
چند دن پہلے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سید فخر امام کو بطور وفاقی وزیر سونپ دی گئی ہے جو کہ نہ صرف خود ایک ترقی پسند کاشتکار ہیں بلکہ قابل ترین زرعی ماہر کے
علاوہ تحقیقاتی اداروں اور زرعی سائنسدانوں کی ہمیشہ اچھے الفاظ میں سپورٹ کرتے آئے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے فخر امام کی اس تعیناتی کو ملک بھر میں
مختلف حلقوں کی طرف سے بہت سراہا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے وزیرکپاس پر تحقیقات کرنے والے اداروں اور ان میں کام کرنے والے زرعی سائنسدانوںکے لئے دوستانہ پالیسیاں تشکیل دیں گے اور پی سی سی سی کی مالی و انتظامی مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنائیں گے۔ انشاءاللہ ان کی وزارت میں پی سی سی سی کی کمیٹی کی تشکیل نو اور تنظم سازی کے لئے قابل عمل اصلاحات کے نفاذ سے پی سی سی سی کا کھویا ہوا وقار اور عروج ضرور بحال ہوگا ۔