ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت کے پیش نظر ہمیں اس وقت غذائی قلت کا شدید سامنا ہے۔اس وقت پاکستان میں کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں میں زندگی بسر کر رہے ہیں جنہیں ٹھیک سے پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ ناخواندگی ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے پیش نظر ایک طرف تو بھوکے پیٹ ہیں اور دوسری طرف کھانے کی بڑی مقدار کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے پاکستان میں غذائی کمی کو عوامی صحت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور ملک کو شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار قرار دیا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے دنیا کے جس خطے میں ہمارا ملک آباد ہے یہ موسم اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے سے ایک بھرپور زرعی ملک کہلانے
کا حق تو رکھتا ہے مگربدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے زراعت کا شعبہ اور اس پیشے سے منسلک کسان بدحالی اور تنزلی کا شکار ہیں جس سے ملک میں غذائی قلت اور بحران جنم لے رہا ہے۔ اچھی صحتمند خوراک نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں افراد مختلف امراض کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بنیادی
طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی شکل میں زارعت کے شعبہ ہی سے وابستہ ہے۔پاکستان کاشمارزرعی پیداور
کے اعتبارسے دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے لیکن اس کے باوجود ہم ٹماٹر ،پیاز ،آلو وغیرہ ہمسایہ ملک بھارت سے امپورٹ کرتے ہیں یہ ہمارے لئے بہت
شرمندگی کی بات ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہم زرعی ملک ہونے کے باجود ابھی تک اپنی خوراک اور غذائی ضروریات میں خود کفیل نہ ہو سکے ہیں یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اسی ّ کی دہائی کا اگر ہم جائزہ لیں تو اس وقت پاکستان میں زراعت کی صورتحال کافی بہتر تھی اس وقت ہماری زراعت اور ہمارا کسان خوشحال تھا اور ملک بھی معاشی طور پر خوشحالی کی جانب گامزن تھا۔پھر آہستہ آہستہ حکومت سازی میں صنعتکار شامل ہوتے چلے گئے۔ ملک میں بتدریج ایک سے ایک بہتر زرعی پالیسی تو بنتی رہیں مگرزراعت اور کسان کی حالت میں سدھار نہ آ سکا۔ اس کی وجہ اسی ّ کی دہائی کے بعد بننے والی حکومتوں میں بزنس مین کا شامل ہونا ہے۔ اس سے پہلے بزنس مین صرف اپنے کاروبار تک ہی محدود تھے لیکن جب بیوپاری حکومت میں آگئے تو پھر حکومت کوکاروباری طور طریقہ سے چلایا جانا ہماری زراعت اور کسانوں کے لئے بہت بھاری پڑ گیا۔ایک ریاست کا کام عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے پالیسی بنانا ہوتا ہے جبکہ بزنس مین صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے کام کرتا ہے۔ اور یوں زراعت اور کسان پر کسی بھی آنے والی نئی حکومت نے خاص توجہ نہ دی جس کے نتیجہ میں نہ صرف ملک معاشی
طور پر کمزور ہوتا چلا گیا بلکہ زراعت و کسان بھی تباہی کے راستے پر چل نکلے۔ بزنس مین مالی طور پرمضبوط ہوتے چلے گئے اور ملک ترقی کی راہ میں بہت پیچھے
رہ گیا۔ ہمارے حکمران ،ہمارے صنعتکار اور دیگر سبھی متعلقہ افراد اچھی پیداوار دینے والی فصلات کو تو سراہتے ہیں مگر کسان کو کوئی نہیں پوچھتا،بالکل ویسے ہی جیسے لوگ موسیقی اورخوش آواز گیت پر تو واہ واہ کرتے ہیں مگر موسیقار اور گلوکار کو پوچھتے تک نہیں۔ اس وقت صرف زراعت ہی ایسا پیشہ باقی بچا ہے جو ملک کو
معاشی دلدل سے نکال سکتا ہے اور اس کے لئے ہمیں فوری طور پر کسان کو صحیح معنوں میں ریلیف پیکج دینا ہوگا۔
گزشتہ روز وزرات قومی تحفظ وخوراک کا قلم دان ایک ایسے قابل ترین شخص کو دیا گیا جس کی ضرورت زرعی سیکٹر میں کئی دہائیوں سے شدت سے محسوس کی
جا رہی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی جیسی اہم ترین وزارت کا قلمدان اس وقت ایک بہترین اوربا صلاحیت شخص کو سونپا گیا ہے۔ سید فخرامام صرف سینئر سیاستدان ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب ترقی پسند کاشتکار بھی ہیں اور زراعت کے شعبے میں خاصہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ سیاست اور زراعت کے میدان میں موصوف ایک معتبر اور قدآور جانی پہچانی شخصیت ہیں۔اس سے پہلے انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کے گیارہویں اسپیکر کا اعزا ز بھی حاصل ہے۔ سید فخر امام کیلی فورنیا یونیورسٹی آف امریکہ سے زراعت میں ڈگری ہولڈر ہیں۔ ایک بہترین زرعی ماہر ہونے کے علاوہ کاشتکاری ان کا خاندانی پیشہ بھی ہے اور آج بھی سینکروں ایکڑ اراضی پر فصلات کاشت کرتے ہیں اور ان کا شمار جنوبی پنجاب کے کے بڑے ترقی پسند زمینداروں میں ہوتا ہے زراعت کے مسائل اور کسانوں کے دکھ درد کو جتنا یہ قریب سے سمجھتے ہیں اتنا کسی اور کے لئے جاننا شاید ممکن نہیں۔انتہائی سنجیدہ ،باکردار،ایماندار شخصیت کے حامل انسان ہیں اور سب سے بڑھ کر خوش آمدی لوگوں سے بہت دور بھاگتے ہیں۔ یہ بیک وقت بہترین سیاستدان ،اعلی پائے کے بیوروکریٹ کی خوبیوں سے لیس اور بہترین زرعی ایکسپرٹ کے علاوہ ایک کامیاب ترقی پسندکسان بھی ہیں۔مختلف صوبائی ووفاقی سطح پر زراعت پر منعقدہ اجلاسوں میں انہوں نے ہمیشہ پاکستانی زراعت اور کسانوں کے مسائل پر ہمیشہ جامع اور دو ٹوک مﺅقف اختیار کیا ہے۔مجھے گزشتہ ماہ مارچ میں ہونے والی زراعت سے متعلق پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان کے الفاظ یاد آرہے ہیں جب انہوں نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ" ہم آج تک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم اس شعبہ میں آگے نہیں بڑھ سکے ۔ زراعت پر قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں زرعی تحقیق کو عالمی معیار کے مطابق لانا ہو گا۔ ملک میں زرعی تحقیقی اداروں پر بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 25 سال میں زراعت پر مناسب توجہ نہیں
دی گئی۔ ہمیں زرعی شعبے پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے"۔ یہ سب باتیں وہی کر سکتا ہے جس کا کاشتکاری اور کاشتکار سے دلی لگاﺅ رہا ہو اور جو زراعت کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا اور جانتا ہو۔
میرا تعلق چونکہ کپاس کے تحقیقی ادارے سے ہے اس لئے میرے نزدیک اس وقت ان کے لئے بطور وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی ملک میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور اسے منافع بخش پیداوار بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس وقت کپاس کا حال یہ ہے کہ اب تک حکومت کی طرف سے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے امدادی قیمت کا اعلان بھی نہیں کیا جا سکا ہے، معیاری اور تصدیق شدہ بیج کی کمی اور کپاس کی کاشت کے لئے مختص کل زیر کاشت رقبہ پر مطلوبہ بیج کی مقدار کا نہ ہونے کے علاوہ بیج کی جرمینشن کے مسائل بھی اس سال کافی پیچیدہ ہیں۔ امسال کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں بھی کافی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس کے علاوہ آنے والے چند ماہ میں کپاس کے لئے ٹڈی دل ایک بہت بڑا خطرہ ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جس طرح ایک بگڑے ہوئے گھر کا نظام فوری طور پر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اس کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح نیشنل فوڈ سیکیورٹی بھی ایک بڑی وزارت ہے جسے سدھارنے میںخاصہ وقت درکار ہوگا مگر مجھے قوی امید ہے کہ موجودہ وزیر زراعت اپنی خداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر زراعت کے میدان میں بہت سی انقلابی تبدیلیاں ضرور لے کر آئیں گے۔ کپاس کے لئے اگلے سال کی منصوبہ بندی کے لئے فوری طور پر یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے کہ جتنا زمینی رقبہ اس وقت خالی پڑا
ہے یا گندم کی کٹائی کے بعد خالی ہوگا اسے اس سال جیسے تیسے اور زیادہ سے زیادہ کپاس کی کاشت کے لئے استعمال میں لایا جائے۔کپاس کے کاشتکاروں کے لئے زرعی زہروں ،فرٹیلائزرز اور بجلی وڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان سے کاشتکاروں کو کافی فائدہ ہوگا۔اور جب کپاس کی فصل چنائی کے لئے بالکل تیار ہوجائے تو پھر جس طرح حکومت گندم کی کٹائی کے وقت گندم خریداری کے لئے تحصیل کی سطح پر مراکز قائم کرتی ہے بالکل اسی طرح کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں بھی حکومت کپاس کی خریداری کے مراکز قائم کرکے کپاس کے کاشتکاروں سے مناسب دام پر پھٹی خرید سکتی ہے ۔اور خریداری مراکز پر مقرر کئے گئے سرکاری عملہ کو کسانوں کے ساتھ اچھے سلوک کا پابند بنا کر کاشتکاروں کے عزت اور وقار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اس حکمت عملی سے آئندہ سال کے لئے کپاس کابہترین پلان بنا یا جا سکتا ہے۔اس طرح کپاس کے اگلے سیزن کے لئے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ہونے کے ساتھ کپاس کے زیر کاشت رقبہ
میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوگا اور ہمارا کسان کپاس کی طرف پھر سے خوشدلی کے ساتھ واپس لوٹ آئے گا۔اگر ہم نے اپنی کپاس کی فصل بچانی ہے تو اس
سال ہمیں کپاس کے کاشتکاروں کو ہرصورت راضی کرنا ہوگا اور انہیں وقت پر کپاس کی اچھی قیمت کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
وزیر موصوف ایک کامیاب ترقی پسند کاشتکارکے علاوہ بطور زرعی ماہرکاشتی امور کا بھی خاصہ وسیع تجربہ حاصل ہے ۔تقریباً چالیس سال سے زائد وہ
سیاست کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کے پیشے سے بھی منسلک ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اور ان کے لئے دعا گو ہیں کہ وہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے موجود زراعت کے گھمبیر مسائل کے حل کے لئے بطوروفاقی وزیر قومی تحفظ و خوارک اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات اور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت کسان دوست زرعی پالیسیوں کو تشکیل دیں گے اورزرعی تحقیقاتی اداروں اور ان میں کام کرنے والے محققین و سائنسدانوں کے سالہا سال سے موجود حل طلب
مسائل کے لئے فوری اور جامع پلان کی تیاری کے ساتھ ساتھ زرعی سیکٹر کو انقلابی بنیادوں پر استوار کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
721