486

 قومی ہیروز کو سلام

جنگی محاز پر دشمن کو شکست دینے کے لئے ایک سپاہی کے پاس دوچیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے ایک سچا اوربے لوث جذبہ اور دوسرا جنگی ہتھیار سے لیس ہونا ۔یہ دونوں چیزیں ہی ایک مجاہد کا کل اثاثہ ہیں جس کے بغیر نہ تو دشمن کوخوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے شکست دی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک ایسے ان دیکھے بدترین دشمن کا سامنا ہے جو سرحدوں سے ،کسی خاص کمیونٹی سے ،کسی بھی مذہب سے، کسی بھی قوم سے بالاتربلا تفریق رنگ و نسل ہمارے بیچ رہ کر نوع انسانی کو مٹانے کے درپے ہے۔ اس وقت حال یہ ہے کہ پوری دنیا کے انسانوں نے کرونا کی عالمی وباءکے خوف سے خود کو قید تنہائی میں بند کیا ہواہے۔چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی اس موت کی آندھی نے کرہ ارض کے انسانوں کو اپنی موت کے جال میںجکڑ رکھا ہے ہر کوئی ایک دوسرے سے خوف کھائے ملنے کو تیار نہیں ،ہاتھ ملانا یا گلے لگاناموت کا گناہ بن چکا ہے۔چین ،اٹلی ،امریکہ برطانیہ ،اسپین،فرانس اور دیگر بہت سے ممالک جو ترقی کی رفتار میں سب سے آگے ہیں جہاں دنیا کا اعلی ترین ہیلتھ سسٹم موجود ہے جہاں بڑے بڑے ڈاکٹرز ،سرجن،طبی ماہرین اور تمام تر طبی سہولیات سے آراستہ ہسپتال موجود ہیں وہ سب کے سب کرونا کے قہر کے سامنے لاچارگی وبے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں اور اپنے تئیںکرونا کے خلاف اپنے اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لئے ہر ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ کرونا کا بھیانک عفریت دنیا کے تقریبا ہر ملک میں پھیل چکا ہے اور ہر ملک اپنی 
استطاعت کے مطابق کرونا کے خلاف اپنے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ مغربی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی عالمی وباءسے کروڑوں افراد متاثر ہوں گے اور جب تک اس وباءکی کوئی ویکسین یا کوئی میڈیسن مارکیٹ میں دستیاب ہوگی اس وقت تک لاکھوں افراد اس بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہوں گے۔
 
اگر ہم پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو اس وقت ہمارے ہاں تقریباً2000کے قریب افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور روزبروز ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔گرچہ فی الحال ہمارے ہاں کوروناوائرس کا پھیلاﺅ اس طرز کا نہیں جیسا کہ اٹلی اور امریکہ میں ہورہا ہے لیکن عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں بعد پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں ڈرامائی طور پر بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ بڑی خطرناک صورتحال 
ہوگی۔پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں معیشت کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور جہاں کورونا وائرس سے نپٹنے کے لئے وسائل کی شدید کمی ہے ہسپتالوں میںممکنہ سہولیات کی کمی ،ڈاکٹرز ،نرسزو دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کی ناکافی تعداداور طبی عملے کا تربیت یافتہ نہ ہونا ،ادویات کی کمی، وینٹی لیٹرز کا مناسب تعداد میں نہ ہونا، کورونا ٹیسٹ کےلئے سکریننگ کٹس کی کمی اور دیگر بہت سی سہولیات کی عدم دستیابی وفقدان کے باوجود کورنا وائرس سے نپٹنے کے لئے جس حوصلے اور جانفشانی کے جذبے کے ساتھ ملک کے مختلف ہسپتالوں میں اور چاروں صوبوں میں قائم قرنطینہ سنٹرز میں موجود ہمارے ڈاکٹرز، نرسز ، پیرامیڈیکس اور دیگر خاکروب و سوئپرز وغیرہ کاعملہ کام کر رہا ہے وہ لائق تحسین اور قابل تعریف ہے۔ میںجب بھی انٹرنیٹ پربیٹھ کر یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ کے خلائی طرز کے بنے لباس ،نرسز و پیرامیڈکس کی خصوصی حفاظتی کٹس، کورونا سے مرنے والوں کی میتوں کو قبرستان لے جانے کے لئے اسپیشل ایمبولینسز اور مردہ اجسام کو ڈھانپنے کے لئے خاص طور پر بنائے گئے شاپرز اور ان کی مکمل احتیاطی تدابیر کو دیکھتا ہوں تو حیران ہو کر سوچتا ہوں کہ پاکستان جیسے جدید سہولیات سے محروم غریب ملک کے ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز میں کام کرنے والاطبی عملہ جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے سر پر کفن باندھے مجاہدوں کی طرح برائے نام حفاظتی سازوسامان کے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی جان بچانے کے لئے شب وروز کام کر رہا ہے ان کا یہ جذبہ اور حوصلہ دیکھ کرتو بلا اختیار انہیں سلیوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے دوسروں کی جان بچانے کی خاطرکورونا وائرس سے لڑتے ہوئے کئی ڈاکٹرز اب تک خود اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیںاوران کی فیملیز اپنے پیاروں سے محروم ہو چکی ہے جبکہ بہت سے ڈاکٹرز او طبی عملہ خود بھی اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں جنہیں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ یہ قوم کے وہ قابل فخر ہیروز ہیں جن سے ملکی تاریخ لکھی جاتی ہے۔ایک اچھی خبر یہ ہے کہ چین نے ہمارے طبی عملہ کے لئے حفاظتی سامان جن میں فیس شیلڈ ،دستانے،ماسک ،شوز کور یعنی مکمل حفاظتی کٹس ہزاروں کی تعداد میں پاکستان میں این ڈی ایم اے ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کی ہیں۔ حکومت کوچاہئیے کہ وہ یہ حفاظتی کٹس فوری طور پر مختلف ہسپتالوں اور ملک بھر میں قائم قرنطینہ سنٹرز میں کام کرنے والے طبی عملہ کو جلد از جلد فرام کرے تاکہ ہمارے ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرامیڈیکس بہتر انداز میں اس ان دیکھے موذی دشمن کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ طبی عملہ کی جانب سے کچھ جگہوں سے حفاظتی کٹس اور دیگر سامان فراہم نہ کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں ان شکایات کا اذالہ فوری طور پر کیا جانا بہت ضروری ہے۔کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی اسکریننگ اور ٹیسٹ کے پراسس کوئی آسان کام نہیں ہے یہ بیماری بہت جلد ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتی ہے۔اسی لئے کورونا سے 
لڑنے والے ہمارے فرنٹ لائن قومی مسیحاﺅں کی حفاطت ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز،نرسز ،پیرامیڈکس ،خاکروب و دیگر عملہ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں ان کے اس انمول جزبے کا کوئی نعم البدل تو نہیں ہو سکتا ہے مگر موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت کی 
جانب سے ہسپتالوں میں کام کرنے والے طبی عملہ کے لئے ایک اضافہ تنخواہ کا علان کافی اچھا اقدام ہے اس سے طبی عملہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور کسی حد تک ان کی مالی مشکلات بھی دور ہوں سکیں گی۔ ریسکیو اہلکار بھی جس طرح کرونا سے مشتبہ افراد کو ہسپتالوں اور قرنطینہ میں منتقل کرنے کے لئے جس طرح فرنٹ 
پر لڑنے والے قومی مسیحاﺅں کی مدد کر رہے ہیں ان کی خدمات کو بھی ہم کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔
کورونا وائرس کے خطرہ سے بچاﺅ کے پیش نظر گھروں میں قید خود کو نظر بند کئے ہوئے لاکھوںکروڑوں افراد کو ملکی و غیر ملکی حالات سے باخبر اور پل پل معلومات کی آگاہی فراہم کرنے والے ہمارے صحافی دوست بھی بارڈر پر لڑنے والے صف اول کے سپاہی ہیں جوکورونا وائر س سے پھوٹنے والی عالمی وباءمیں بلا خوف وخطر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ میڈیااطلاعات کے مطابق ابتک کئی میڈیا ورکرز مختلف ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز میں اپنی ڈیوٹیاں انجام دیتے ہوئے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ۔ اس پر خطرماحول میںحکومتی نمائندوں اور میڈیا مالکان کو بھی صحافی برادری کا پورا پورا خیال رکھنا ہوگا جو پوری تن دہی اور ایمانداری کے ساتھ عالمی وائرس وباءکے خلاف اٹھائے جانے والی حکومتی اقدامات کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں اور لوگوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور بچاﺅ کے عملی اقدامات بارے شعور و آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ اپنی متعلقہ وزارت کو حکم 
دے کہ وہ میڈیا مالکان کے ساتھ فوری مذاکرات کریں ور میڈیا مالکان کو اس بات پر راضی کرے کہ وہ اپنے ورکرز کا پوری طرح خیال رکھے۔میڈیا مالکان کو چاہئیے کہ وہ اپنے میڈیا ورکرز کے لئے حفاظتی کٹس کا بندوبست کرے اور ورکرز کی مالی مشکلات کے پیش نظر ان کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کے ساتھ ساتھ اچھی کارکردگی دکھانے پر اسپیشل الاﺅنس کا اعلان کرے اور دوران ڈیوٹی کورونا وائرس سے متاثرہ میڈیا ورکرز کے علاج ومعالجہ اور ان کی فیملیز 
کا پورا پورا خیال رکھے۔میڈیا ورکرز کے لئے حکومت خود بھی خصوصی پیکج کا اعلان کرے ۔
کورونا وائرس کے خلاف ہماری افواج اور پولیس کا بھی بہت ہی شاندار کردار ہے جو دن رات حکومتی اقدامات کی تعمیل کرانے کے لئے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم معاشرے کے ان گمنام اہل ثروت مخیر مجاہدین کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو ہزاروں لاکھوں غرباءمساکین ،بیروزگار ودیہاڑی داڑ مزدورطبقہ اور خیراتی اداروں کی بھرپور انداز سے خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ آئیے ہم سب اللہ سے مل کر دعا کریں کہ وہ ہم سب کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے اور خاص کر ہمارے وہ قومی مسیحا ئی ہیروز جو ہماری حفاظت کی لئے اپنے آرام دہ گھروں سے نکل کر ہماری حفاظت پر مامور 
ہیں اللہ رب العزت انہیں اور ان کے اہل خانہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ،آمین
 

بشکریہ اردو کالمز