ارض پاک کو قدرت نے قدرتی وسائل سے مالا مال اور لاتعداد نعمتوں سے نوا زا ہے سرسبزو شاداب گھنے جنگلات،آبی وسائل، معدنی پہاڑ ہماری قومی معیشت کا اہم حصہ ہیںہمارے ملک میں دنیا کا سب سے بڑا اور بہترین نہری نظام موجود ہے،سونا اگلتی زرخیز زمینیں ہیں ،علاقائی و آب وہوا کے لحاظ سے ہم دنیا کے بہترین خطے میں موجود ہیں ، قدرت نے ہمیں گرمی ،سردی، خزاں اور بہار جیسے چار خوبصورت موسموں سے نواز اہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے کسان بہت ہی محنتی اور جفاکش ہیں۔زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور زرعی پیدوار کے اعتبار سے دنیا میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔، ملکی مجموعی افرادی قوت کا39فیصد حصہ زرعی شعبہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ہمارے ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 55فیصد حصہ ڈائریکٹ یا
اندائریکٹ زرعی شعبہ سے جڑا ہے۔
موضوع زراعت کو احاطہ تحریر میں لانا میرے لئے خاصہ دقت طلب مسئلہ ہے ۔بار بار لکھ کر بھی موضوع سے مطابقت کا سقم اور تشنگی رہ جانے کا احساس مجھے کیفیت اضطراب میں مبتلا کئے رکھتا ہے۔پاکستان کی زراعت اور کسان سے متعلق اب تک بہت کچھ تحریری مواد کی شکل میںہمارے پاس معلومات کی فراوانی کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میں زراعت کی اہمیت،اس کے مسائل و اسباب اور زرعی ترقی کے حوالہ سے متعلق زرعی ماہرین و محققین کے لاتعداد تحقیقی مقالہ جات ملکی و بین الاقومی جرائد ورسائل میں شائع ہو چکے ہیں، بڑے بڑے اہل قلم و دانشوروں نے موضوع زراعت پر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں لکھ ڈالیں ہیں، انگنت لکھاری، کالم نویس اور ناقدین اخبارات و میگزینز میں بے شمارزرعی مضامین ،فیچرز اور کالمز اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں لکھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں موجود بہت سے زرعی کالجز و مختلف زرعی یونیورسٹیاں، سینکڑوں کی تعداد میں صوبائی و وفاقی سطح پر کام کرنےوالے زرعی محکمہ جات،زرعی تحقیقاتی ادارے اور ان میں کام کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں زرعی ماہرین وآفیسران ،لاکھوں کی تعداد میں ان کے ماتحت کام کرنے والا عملہ اور دیگر ملک بھر میں زرعی شعبہ سے وابستہ پرائیویٹ سیکٹر جن میں سیڈ ،پیسٹی سائیڈز ،کھادیں بنانے والی ہزاروں کی تعداد میں
کمپنیاں اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں یہ سب پبلک و پراﺅیٹ سیکٹرز مل کر ہماری زراعت اور ملک کے تقریباً 50لاکھ کسانوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔ زراعت کے لئے اس قدرسازگار ماحول اور گرانقدر خدمات ہونے کے باوجو افسوس آج ہماری زراعت ایک گھاٹے کا پیشہ بن کر رہ گئی ہے۔زراعت اور کسان دونوں ہی تباہی و بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ہماری ملک کی بڑی فصلات کپاس ، گندم، چاول اور گنا جن سے ہماری معیشت کا صنعتی پہیہ چلتا ہے یہ فصلات کسانوں کو اب ٹھیک سے منافع نہیں دے پا رہیں جس کی وجہ سے ہماری صنعتی ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے،پیداواری لاگت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب کسانوں کو زراعت کا پیشہ بوجھ لگنے لگا ہے۔ہمارے لئے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ایک بہترین زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم ٹماٹر ،مرچیں ،پیاز ،
ادرک و لہسن تک ہمسایہ ملک سے درآمد کر رہے ہیںاوراپنے مقامی کاشتکاروں کو مضبوط کرنے کی بجائے پردیسی ملک کے کسانوں کو معاشی طور پر مستحکم بنا
رہے ہیں۔ہماراکسان اب زراعت کے پیشہ سے مایوس اور بیزار ہو کر اپنی زرخیز زمینوں کو فروخت کر تا جارہاہے جس سے روزبرو زہماری سونا اگلتی
زرخیززمینیں ہاﺅسنگ سوسائٹیز اور کمرشل پلازوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔مگر آج کے زمینی حقائق کو دیکھ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا نقشہ اب تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ کرہ ارض پرکورونا جرثومے کے نمودار ہو نے سے موجودہ دنیا کے سسٹم میںواضح تبدیلیاں محسوس کی جا رہی ہیں۔دنیا کی کل ساڑھے سات ارب سے زائد آبادی میں سے تقریبا ً 4ارب انسانوں نے کورونا کے خوف وڈر سے خود کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔اس وقت گھروں میں نظر بند انسانوں کے نزدیک نہ توہوٹل انڈسٹریز کی ضرورت ہے ،نہ ایئر لائنز صنعت میں کوئی دلچسپی ہے۔نہ جنک فوڈ انڈسٹری میں رغبت دکھائی دیتی ہے۔فیشن اور شوبز انڈسٹریز
سنسان و ویران پڑی ہیں۔سیروسیاحت کی صنعت میں کوئی جان باقی نہیں رہی غرضیکہ پورے جہان میں اس وقت ہرطرف نفسانفسی اور ہو کا عالم ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے انسانوں کے نزدیک زندہ رہنے اور اپنی بقاءکو محفوظ بنانے کے لئے غذائی تحفظ کا ہونا بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے جس کا سارا دارومدار ایگریکلچر انڈسٹری پر ہے۔ وباءکے موسم میں عالمگیر تنہائی اختیار کئے ہوئے اربوں افراد کو حالات کی سنگینی یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ بھوک مٹانے اور دنیا میں جینے کے لئے غذائی ضروریات کس قدر اہم اور ضرور ی ہیں۔گندم،چاول ،گنا ،کپاس ،دالیں ،سبزیاں ،مختلف انواع کے فروٹس کی قدرو اہمیت جو آج ہم محسوس کر رہے ہیں ہمارے اندر غذائی تحفظ کی اہمیت کا یہ احساس شاید اس سے پہلے اجاگر نہیں ہوا تھا۔ اربوں انسان کورونا وائرس سے بچنے اور خود کو قرنطینہ کرنے کے لئے کھانے پینے کی اشیاءاور دیگر غذائی ضروریات کو محدود عرصہ کے لئے گھروں میں ذخیرہ کئے بیٹھے ہیں کورونا وائرس کے خوف وڈر کی وجہ سے
انسانی بقاءکے لئے جتنی اہمیت آج زرعی سیکٹر کی ہے اس سے پہلے انسان نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ۔
آج دنیا اوراس کا نظام بدلنے جا رہا ہے۔ آج دنیا کی بڑی بڑی انڈسٹریز معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں ۔ یورپ کی بڑی بڑی بزنس کمپنیاں جنہوں نے مختلف انڈسٹریز میں اربوں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ،اب یہ سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے یہ سب کمپنیاں حتی کہ پورا یورپ اور مشرق وسطی کے ممالک جن کی آمدنی کا انحصار معدنی تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہیں یہ سب دیوالیہ ہو رہے ہیں دنیا کاسارا کاروبار ٹھپ ہورہا ہے دنیا کی بزنس
چین بڑی سرعت کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر رہی ہے یہ سب تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہو رہے ہیں صرف چند مہنیوں کی دوری کی بات ہے پوری دنیا کا نقشہ اور نظام الٹ پلٹ ہونے جا رہا ہے۔ ہمیں آئندہ مستقبل میں زندہ رہنے کے لئے زرعی شعبہ اور صحت کے نظام میں اپنی بقاءنظر آ رہی ہے۔آج روپیہ ،پیسہ ،بینک بیلنس ، بزنس ،عالیشان محل ،پرتعیش کوٹھیاں، بنگلے ، نت نئی قیمتی گاڑیاں مٹی کے ڈھیر محسوس ہو رہے ہیں۔ زندہ رہنے اور جینے کے لئے
دو وقت کی روٹی کی اہمیت کا احساس آج انسان اپنے اندرپوری شدت سے محسوس کر رہا ہے ۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری زراعت اور ہمارے کسان کے نصیب کھلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ کرونا وائرس جہان کی تمام تر رعنائیوں اور رنگینیوں سے بھری محفلوں کو اجاڑ کر انہیں ویران زدہ بنانے کے بعد جب اس
دنیا سے رخصت ہوگا تو نئی وجود میں آنے والی دنیا ہماری اس موجودہ دنیا سے یکسر مختلف ہو گی۔ آج ہم اس نئی دنیا کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جہاں اپنا اگاﺅ اور اپنا کھاﺅ والے اصول ہوں گے۔ مستقبل میں دنیا کی ترجیحات میں زراعت اور صحت صف اول کے طور شامل کئے جائیں گے۔ہماری زراعت اور
کسانوں کی ابتر ی، بہتری میں بدلنے والی ہے ان کا نصیب جاگنے کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔ہمارے کاشتکار بھائیوں کے دن پھرنے والے ہیں۔ ایسے سرمایہ دار اور صنعتکار جو روز اول ہی سے کسانوں کا استحصال کرتے چلے آئے ہیں اب ان کے برے دنوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے اس دھرتی پر اب کسان راج کرے گا۔دنیا کی بقاءاور اس کے نظام کو چلانے کی کنجی کسانوں کے ہاتھ لگنے جا رہی ہے۔وہ کسان جو آج اپنی گندم 1400روپے من فروخت کرکے سرمایہ دار سے50روپے فی کلو کے حساب سے آٹا خرید رہا ہے اور گنا250روپے فی من بیچ کر85روپے فی کلو چینی خرید رہا ہے ظلم کا یہ نظام اب مزید نہیں چل سکے گا۔ دنیا سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہونا اب چند مہینوں ہی کی بات رہ گئی ہے۔آئندہ کسی بھی ملک کی بقاءاس کے اپنے قدرتی وسائل سے ہی ممکن
ہو سکے گی جس میں زراعت کی اہمیت مسلمہ ہوگی۔ مستقبل میںاپنا اگاﺅ اور اپنا کھاﺅ دنیا کا ماٹو ہو گا۔دنیاکو اپنی تمام تر توجہ اب زراعت وصحت کی طرف دینا پڑے گی ،زراعت کے لئے کثیر سرمایہ خرچ کرنا ہوگا،اب حقیقی معنوں میں کسانوں کو ریلیف ملے گا۔زرعی مشینری و آلات سستے داموں کسانوں کو ملا کریں گے ،خالص تصدیق شدہ بیج ،ملاوٹ سے پاک کھادیں اور خالص کرم کش زرعی زہریں دستیاب ہوں گی ،کاشتکاروں کے لئے بجلی و ڈیزل میں نمایاں رعایت
فراہم کی جائے گی۔ بینک بلا سود زرعی قرضوں کی فراہمی مجاز ہوں گے۔ عنقریب ایسا سب کچھ ہو نے جا رہا ہے کیونکہ مستقبل میں غذائی قلت اور غذائیت میں
کمی ختم کرنے کیلئے زراعت کے شعبہ میں بہتری و ترقی ہی انسانی زندگی کی بقاءکی ضامن ہوگی اور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہمارا کسان خوشحال ہوگا۔