2859

تاریخ فتوحات گنتی ہے 

وہ منظر بڑا بھیانک تھا،بہت عبرت ناک اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ ترین ورق جس لکھی تحریر آج بھی ہمارے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے 
معتصم بااللہ!
  آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا پابجولا ں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا ہے ذرا منظر تصور میں لایئے کھانے کا وقت آیا توہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور معتصم بااللہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے جواہرات رکھ دیئے 
پھر معتصم سے کہا جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ 
بغداد کا تاجدار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا ہے 
بولا میں سونا کیسے کھاؤں؟
ہلاکو خان نے فوراً کہا پھر تم نے یہ سونا اور چاندی کیوں جمع کیا؟
وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کیلئے ترغیب دیتا ہے 
مسلمان خلیفہ کوئی جواب نہ دے سکا 
ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر تیر کیوں نہیں بنائے؟
تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کے بجائے اپنے سپاہیو ں کو رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری فوج کا مقابلہ کرتے 
مسلمان خلیفہ نے جواب دیا کہ اللہ کی یہی مرضی تھی 
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہوگی 
معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹا گیا اور گھوڑوں کی سموں تلے روند ڈالا گیا چشم ِ فلک نے دیکھا کہ ہلاکو نے بغداد کو قبرستان بنا ڈالا 
ہلاکو نے کہا آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی 
تاریخ ہمیشہ فتوحات گنتی ہے 
محل،لباس،ہیرے جواہرات،انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں 
تصور میں لایئے!
جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبوبہ کی یاد میں تاج محل تعمیر کرارہا تھا اور اسی دوران برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران ڈلیوری فوت ہوجانے پر ریسرچ کیلئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھ رہا تھا 
جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے تب یہاں تان سین جیسے گویئے نت نئے راگ ایجاد کر رہے تھے اور نو خیز،خوبصورت رقاصائیں شاہی درباروں کی شان و شوکت دوبالا کر رہی تھیں 
جب انگریزوں،فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے بر صغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے مغل ارباب اختیار شراب و شباب کی محفلوں میں مدہوش طاؤس و رباب میں ڈوبے ہوئے تھے 
تاریخ اس بات سے غرض نہیں رکھتی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہوئی ہیں یا خالی!
شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں!
درباروں میں خوشامدیوں،میراثیوں،طبلہ نوازوں،وظیفہ خوروں۔طوائفوں اور جی حضوریوں کا جھرمٹ ہے یا نہیں 
تاریخ صرف کامیابیوں سے غرض رکھتی ہے،وہ عذر کو کبھی اور کسی صورت قبول نہیں کرتی 
عر صہ پہلے عرب کی سرزمین پر ٹرمپ کا وہ بے مثل استقبال اور اس کی گالوں کے بوسے،ٹرمپ کی بیوی سے گرمجوشی کا مصافحہ اور اس کے ساتھ شاہ سلیمان کا رقص،55مسلم مالک کے نمائندوں کے سامنے ٹرمپ کی بیٹی کیلئے 10کروڑ ڈالر کا انعام،انتہائی قیمتی اور نایاب ہیروں سے مرصح سونے کی گن جس پر شاہ سلیمان کی تصویر تھی اور 25کلوگرام سونے سے بنی تلوار جس پر نایاب ہیرے اور پتھر جڑے ہوئے تھے،سونے اور ہیروں سے تیار کردہ 25گھڑیاں،ہیرے اور جواہرات سے سجے 150سے زائد عبایہ،800ملین ڈالر کی قیمتی کشتی جس کی لمبائی 125میٹر جس میں 80کمرے اور 20شاہی کمرے اور ان کمروں کا سارا سامان سونے اور قیمتی ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا جو امریکی صدر ٹرمپ کو تحفے میں دان کئے گئے کسے یاد نہیں 
ہاں یہی نہیں ٹرمپ کی اس شاہی ضیافت کے موقع پر دارالحکومت ریاض کی ایک بڑی شاہراہ کا نام ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ اس شاہراہ کے شروع میں سونے،چاندی ہیرے اور جواہرات سے مزین ٹرمپ کا مجسمہ لگانے کا اعلان کیا گیا 
عین اس وقت جب سعودی مسلمان حکمران ایک اونٹ کو 16ملین ریال کا تاج پہنا رہے تھے امریکی صدر ٹرمپ سعودی حکمران کو یہ باور کرارہا تھا کہ ”امریکی تحفظ کے بغیر تمہاری حکمرانی دو ہفتے نہیں چل سکتی“
جمال خاشقجی جو امریکہ کا لے پالک تھا اور محض امریکی مفادات کیلئے کام کرتا تھا کے قتل کی پھانس سعودی شہزادے کے گلے تک آپہنچی محض اس لئے کہ شہنشاہیت طاؤس و رباب میں ڈوب گئی 
  یہ صدر ٹرمپ کے داماد اورمشرق وسطیٰ کیلئے وائٹ ہاؤس کے مشیر جارڈ کشنر کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کا نتیجہ ہے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر بروس ریڈل نے اپنے مضمون میں پہلے ہی متنببہ کردیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلیمان کی جان کو خطرہ ہے،خود شاہی خاندان میں بغاوت ہوچکی کئی شہزادے بغاوت کے الزام میں بابند سلاسل ہیں،وقت برسوں حادثوں کی پرورش کرتا ہے اگر آپ وقت کی راسیں اپنے ہاتھوں میں قابو کر چکے تو حادثوں سے بچ گئے ورنہ حادثے آپ کا مقدر ہوگئے

بشکریہ اردو کالمز