441

چوہدری خوشی محمد ایک بڑا انسان 

 چوہدری خوشی محمد نے تمام زندگی انسانیت کی خدمت کی،کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور اس دکھ میں اپنے آپ کو شامل کیا،اللہ تعالیٰ اس دھرتی پر ایسے بہت تھوڑے لوگ بھیجتا ہے جن کا مقصد ضرورت مند،مستحق افراد کی بے لوث خدمت کرنا ہوتا ہے،میں آج بھی ایسی آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوں جن کی مدد کرتے ہوئے چوہدری خو شی محمد نے دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلنے دیا،انہوں نے اپنے اخلاق،رویہ اور اصول سے ثابت کیا کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے،ایک روز ان کی گاڑی ایک روڈ پر جارہی تھی انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ گھر کا سامان گھر سے باہر پھینک رہے ہیں ایک عورت رورہی ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے پاس بیٹھے ہیں،ڈرائیور سے بولے گاڑی روکو،ڈرائیور نے گاڑی روک دی،چوہدری خوشی محمد کے اندر انسانیت دھڑکتی تھی،عورت سے پوچھا کہ بیٹا کیوں رو رہی ہو؟  اس نے کہا کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں،یہ مکان جس شخص کا ہے میں تین ماہ سے اس کا کرایہ نہیں دے پائی،اب یہ مکان خالی کرانے کیلئے میرا سامان باہر پھینک رہے ہیں چوہدری خوشی محمد نے مکان کی قیمت پوچھی اور قیمت ادا کرکے اس بیوہ کے نام کرادیا،وہاں بڑے بڑے لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے کسی میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ ایک بیوہ عورت اور یتیم بچوں کی ڈھارس بندھاتے لیکن عزت کی پگ اللہ تعالیٰ نے چوہدری خوشی محمد کے سر پر رکھنا تھی،چوہدری خوشی محمد میرے گاؤں کا ایک بڑا انسان تھا جس نے ہمیشہ احسان کرکے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا،کسی کے ساتھ نیکی کر کے اسے کبھی باور نہ کرایا، اس کی بڑی وجہ ان کا خاندانی پس منظر تھا،
ان کا ایک غریب دوست تھا ایک روز اس سے کہا کہ آج تمہاری بھینس کے دودھ کی چائے پیئں گے اس نے کہا چوہدری صاحب میں تو ایک غریب آدمی ہوں میرے پاس بھلا بھینس کہاں؟چوہدری خوشی محمد نے کہا کہ تم گھر چل کر چائے کا بندوبست کرو میں آرہا ہوں،ایک شخص کے پاس پہنچے اور ایک اچھی بھینس اس سے خریدی اور ڈالے میں ڈال کر اس غریب دوست کے گھر جاپہنچے اس نے دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا،چوہدری خوشی محمد نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ تمہاری بھینس کے دودھ کی چائے پیئیں گے یہ بھینس تمہاری ہے میری طرف سے تمہیں اور تمہارے بچوں کیلئے یہ ایک تحفہ ہے،یہ دونوں واقعات مجھے ایک دوست کی زبانی معلوم ہوئے چوہدری خوشی محمد کی سخاوت کا ڈنکا علاقہ میں بجتا تھا،ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگ انہیں بابا خوشی کہا کرتے تھے،مجھے یاد ہے کبھی ان کے ہاں بیٹھنا نصیب ہوا تو کہا کرتے تھے کہ بیٹا اپنے گزرے وقت کو کبھی نہ بھولو انسان کے پاس دولت کا آجانا یا امارت سے غربت کی طرف انسان کا سفر اللہ رب العزت کی آزمائش ہوتی ہے،وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ دولت اور غربت میں اس کے رویئے تبدیل ہوئے ہیں یا وہی ہیں،
مجھے ایک واقعہ یاد ہے تھانہ کوٹ سلطان میں رب نواز خان کھتران کے پاس بیٹھے ہوئے تھے چوہدری خوشی محمد نے کہا کہ ابوجہل کے در پر ایک سوالی آیا،اور اللہ کے نام پر کچھ مانگا ابوجہل نے طنزاً کہا کہ اللہ کے نام پر لینا ہے تو محمد ﷺکے در پر جاؤ یا مولا علی ؓ کے در پر جاؤ،سوالی حضرت مولا علی ؓ کے در پر جاپہنچا اور اللہ کے نام پر سوال کیا،اس وقت مولا علی ؓ کے گھر میں اس سوالی کو دینے کیلئے کچھ نہیں تھا،ابوجہل اس تاڑ میں تھا کہ سوالی خالی ہاتھ واپس آئے گا اور مجھے طنز کا موقع مل جائے گا،مولا علی ؓ نے سوالی سے کہا کہ اپنا دایاں ہاتھ میری طرف کرو اُ نے اس کی ہتھیلی پر تین پھونکیں مار کر کہا کہ مٹھی بند کر لو اور شہر سے باہر جاکر کھولنا،سوالی مٹھی بند کرکے جب ذرا آگے چلا تو ابوجہل نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ بتاؤ علیؓ کے در سے کیا لیکر آئے ہو اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا اور کہا کہ مولا علی ؓ نے فرمایا ہے کہ مٹھی شہر سے باہر جاکر کھولنا،ابوجہل نے ضد کی کہ مٹھی کھول کر دکھاؤ تو سہی مگر سوالی نہ مانا ابوجہل بھی ساتھ چلتا رہا اور شہر سے باہر جاکر جب مٹھی کھولی تو اس میں تین قیمتی لعل تھے،ابوجہل نے کہا کہ سخاوت میں اس گھرانے کا میں مقابلہ نہیں کرسکتا،چوہدری خوشی محمد کہا کرتے تھے کہ اللہ پاک کا احسان مانو کہ اس نے تمہارے در پر کوئی سوالی بھیجا ہے وہ اس کی ضرورت آپ سے پوری کرانا چاہتا ہے،رب نواز خان کھتران چوہدری خوشی محمد کو یاد کرکے آج بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں،ان کا بڑا بیٹا چوہدری یوسف ایک محبت کرنے والا ملنسار انسان ہے،کبھی اس نے کسی کو تکلیف نہیں دی،چک میں ہونے والے واقعات پر اس نے ہمیشہ صلح کی بات کی لیکن چوہدری خوشی محمد کا خلا شاید کبھی پر نہ ہوسکے

بشکریہ اردو کالمز