449

باسط عباسی،زندگی کا خوبصورت پہلو 

کہا یہی جاتا ہے کہ پہاڑوں میں رہنے والے جفاکش نہایت سخت جاں ہوتے ہیں ان کے جسم کی طرح ان کے دل بھی پتھر کے ہوجاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دلوں کے گداز سے کوئی محروم نہیں ہوتا ان کے دل بھی دوسروں ہی کی طرح دھڑکتے ہیں،میرا قلم

یہ  الفاظ ملکہ کوہسار مری کے بیٹے باسط عباسی کے نام کرنے پر مجبور ہے،حلیم طبع لوگوں کو انسانیت کا درد خاندانی پس منظر کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے،باسط چھوٹے شہر کا بڑا آدمی ہے،      
انسانیت جس کی رگوں میں دوڑتی ہے،انسانیت کا درد جس کے سینے میں دھڑکتا ہے،چی گویرا بہت نامور ہستی ہے دنیا بھر کی باغی نسل اسے اپنا پیشوا اور نظریاتی قائد سمجھتی ہے اور ایک بلند مقام اسے دیتی ہے بولیویا میں اس نے اپنی گوریلا سرگرمیاں شروع کیں اسی جگہ اسے پکڑا گیا اور گولی سے اُڑا دیا گیا،وہ مرحوم کاسترو کا دست راست تھا اس نے اپنے بچوں کے نام جو آخری خط لکھا اس میں سے چند سطور اس کی شخصیت کی آئینہ دار کہی جاسکتی ہیں 

”اگر کسی دن تم میرا یہ خط پڑھو گے تو اس لئے کہ میں خود تمہارے پاس نہیں ہوں گا تمہارا باپ ایسا آدمی رہا ہے جس نے جو سوچا اس پر عمل کیا دنیا کے کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی ہو تمہارا یہ فرض ہے کہ اسے محسوس کرو“
بھائی شیر علی کا کہنا تھا کہ عرصہ پہلے بھابھی کا ہاتھ چھوٹا اور باسط کے پاس ان کی یادوں کے سوا کچھ نہ بچا،عرصہ ہوا کوئی اور ہاتھ تھامنے کا قصد تک نہ کیا،فاصلے شاید آج بھی سمٹ نہیں پائے جانے والوں کو ایک مٹھی مٹی کی دے دی جائے تو کچھ صبر آجاتا ہے ورنہ تو دل کو یہ یقین دلانا ہی مشکل ہوجاتا ہے کہ کوئی سدا کیلئے ساتھ چھوڑ گیا،منوں مٹی تلے دفن ہوگیا،رفاقتیں اُجلی ہوں تو قلیل عرصہ میں ماند نہیں پڑا کرتیں،
ہم نے کبھی سوچا کہ ڈپریشن کا مرض ہمارے ملک میں کیوں بڑھ گیا ہے ہم نے ایثار ِ صلہ رحمی،محبت، خلوص،بھائی چارہ،دوستی،اچھائی،اُلفت،چاہت،دوسروں کے کام آنا،گرے ہوؤں کو سنبھلنے میں مدد دینا،کسی بوڑھے ناتواں شخص کو سڑک پار کرانا،دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا،کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا،کسی کیلئے بے آرام ہونا،کسی کی ماں کو اپنی ماں سمجھنا،پسے ہوؤں پر ظلم ہوتے دیکھنا اور ان کی مدد نہ کرنا،دوسروں کے آرام کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔لیکن وہ جو مقصدیت کے قائل ہیں،دل کی ہر دھڑکن کو اپنے قول و فعل کا امیں ٹھہراتے ہیں،ایسے لوگ کورے کاغذ کی مانند اپنا سفر حیات شروع کرتے ہیں اور زندگی کی جس شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں اپنے انمٹ نقش چھوڑ جاتے ہیں،قیاس اور اندازے محض ہوا میں چلائے گئے سوچ کے تیر ہوا کرتے ہیں اور سوچ کے یہی تیر باسط عباسی جیسے انسان تک رسائی کا سبب بنے،نیلسن منڈیلا سے کسی نے پوچھا کہ زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جو ہمیشہ کیلئے محو ہوکر رہ گیا؟کہا جب سزا ہوئی تو جیل کی کال کوٹھڑی میں کہر آلود سردی میں ننگا فرش میرا مقدر تھا ہر وارڈن کو یہ یدایت تھی کہ نیلسن کو اگر کسی نے کوئی سہولت دی تو مستوجب سزا ہوگا مگر ایک نوجوان نے اپنا کمبل اُتار کر میرے اوپر پھینکا ہمدردی کا وہ لمحہ میں نہیں بھول سکا،کیلی فورنیا میں جب بلدیہ والوں نے ایک درخت کاٹنا چاہا تو ایک لڑکی احتجاجاً اس درخت کو کاٹنے والوں کے درمیاں حائل ہوگئی کہ درخت پر چڑیا کے بچے ہیں،ہمدردی کا لمحہ کسی بھی وقت آپ کی کایا پلٹ دیتا ہے 
باسط عباسی کی زندگی کا خوبصور ت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک بہترین منتظم ہیں،جذبوں کی سچائیوں نے ان کے قد کو بڑا کردیا ہے،ایک صاحب ِ ظرف آفیسر جو ہمیشہ زیردستوں کی جھولی میں ہمدردیوں کی بھیک الفاظ کی شکل میں ڈالتا ہے،یہ جذبے بہت انمول ہوا کرتے ہیں اور زندہ بھی شاید وہی ہیں جو یہ خزانے رکھتے ہیں،اک گہری نظر اور فطرتوں کا گہرا مطالعہ کرنے کا ہنر بھی باسط عباسی کو قدرت نے خوب عطا کیا ہے،یہ پاسداریاں یونہی نہیں سنبھالی جاتیں ظرف اور حوصلے کی انتہا درکار ہوتی ہے،بارگاہ ِ رب العزت میں دعا ہے کہ ہماری دھرتی کا یہ مان سدا سلامت رہے،جو ایسے وقت میں امید کی کرن ہیں جب ہماری دھرتی پر چاروں اور دھواں ہے،ہماری رگوں اور سانسوں میں گھل رہا ہے،سوچیں منجمد ہوگئی ہیں،اور نگاہوں میں التجاؤں کے سوا کچھ نہیں بچا

بشکریہ اردو کالمز