اسے ستار العیوب کا قرب نصیب ہے باری تعالیٰ کا ذکر چھڑا تو واقفان حال کہتے ہیں اس درویش کی آنکھوں میں بے اختیار امڈ آنے والے آنسو ؤ ں کی جھڑی دیکھی اور اس کے چرنوں میں بیٹھنے کا جنہیں قرب نصیب ہوا انہیں روحانی آسودگی ملی،
عصر حاضر کے اس درویش کو رب ِ ذوالجلال کا قرب حاصل ہے
یہ سند گناہوں کے نشیب و فراز میں بھٹکنے والا بھلا میرے جیسا گناہ گار شخص کیسے دے سکتا ہے؟ لیکن اس کی تصدیق میرے نبی ﷺکی زبان مبارک سے نکلے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ ”ذات ِ باری تعالیٰ کو دو قطرے بڑے عزیز ہیں“ایک وہ قطرہ جو اس کے خوف سے ایک مسلمان کی آنکھ سے گرا اور ایک وہ قطرہ جو اس کی راہ میں لڑتے ہوئے ایک مسلمان کے لہو کی صورت میدان ِ جہاد میں گرا،درویش دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ”دُ ر“ جس کا معنی ہے موتی اور ”ویش“ جس کا معنی ہے بکھیرنا۔ ایسی بات لکھنے والا، بتانے والا جس سے معرفت کے سُچے موتی بکھر جائیں اور جہاں بکھریں، وہاں صرف وہ معرفت ہی نہیں، معرفت کا گلستان آباد ہو جائے۔ اسے درویش کہتے ہیں. اور ان دونوں لفظوں میں سارے جہاں پوشیدہ ہیں۔ یعنی جو درویش ہوتا ہے، درویشی حاصل کرنے کے بعد اس کی منزل فقیری ہوتی ہے۔ اور آگے فقراء کے بہت سارے مقامات ہیں۔ جو صوفیائے کرام میں درجہ بندی ہے
ان کے عادات و اطوار، سادگی،حلیم،بردباری، دین داری و پرہیز گاری اور بے باکی وحق گوئی کی دنیا قائل ہے جو انہیں ورثے میں ملی
ان کی ذات کے مطالعے سے ان رذائل کو چھوڑ دینے کی تحریص و ترغیب بھی ملتی ہے جو مقصود تصوف ہے جن سے انسان اصلاح باطن کا اعلیٰ ملکہ حاصل کر لیتا ہے۔ روحانی بالیدگی کے متلاشی ملک مبشر جیسے ہیروں کو پانا ہی اعزاز سمجھتے ہیں سب سے اہم چیزاس خوشبودارانسان کے چہرے پرملکوتی سکون ہے،وہ جو پنجابی شاعری کے آخری جادوگر میاں محمد بخش نے کہا تھا: شام پئی بن شام محمد۔ سہ پہر کو جیسے سورج ڈوب جائے۔ ہر چیز فنا ہوتی ہے۔ ہر آدمی ایک دن مٹی کو سونپا جانا ہے۔ ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ فوج درفوج میدانِ حشر میں لوگ آخر کارجمع کر دیے جائیں گے۔ اعمال نامے ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھما دیے جائیں گے۔ صابر وشاکر، متین اور باوقار‘ پیکر تحمل اور صداقت شعار ملک مبشر کے بارے میں دعا اور امید یہ ہے کہ ان کا نامہ ء اعمال دائیں ہاتھ میں ہوگا۔ انشاء اللہ وہ عرشِ بریں کے ٹھنڈے سائے میں ہوں گے۔ اللہ کے آخری رسول ؐ ایک دعا پڑھا کرتے اور تعلیم کیا کرتے: اے اللہ مجھے صبر کرنے والا بنا، اے اللہ مجھے شکر کرنے والا بنا، اے پروردگار مجھے اپنی نگاہ میں چھوٹا اور دوسروں کی نگاہ میں بڑا کر دے۔ ملک صاحب کو بھی ایسا ہی پایا۔نمودِ ذات سے بے نیاز
ایک قادرالکلام اور دسترس ہونے کے باوجود شہرت کی جس شخص میں آرزو باقی نہیں،د رویش نہیں تو وہ اور کیا ہے اہلِ فقر کی ایک اور علامت یہ ہے کہ کسی چیز کے وہ مدعی نہیں ہوتے۔ کوئی دعویٰ نہیں رکھتے۔ کبھی اپنا کوئی کارنامہ بیان نہیں کرتے۔ حرفِ تحسین کے طالب نہیں ہوتے۔ لوگ انہیں سادہ لوح سمجھتے ہیں؛حالانکہ وہی سب سے دانا ہوتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ خودداری اور آبرو مندی کی حیات آسائش کی طلب سے افضل ہے۔ اللہ کے آخری رسولؐ نے فرمایا تھا:غنی وہ ہے جس کا دل غنی ہو۔ شیخِ ہجویرؒ کے گرامی قدر استاد ابوالحسن ختلی ؒ کا قول بار بار دہرانے کو جی چاہتا ہے ”یہ دنیا ایک دن کی ہے اور ہم نے اس کا روزہ رکھ لیا۔“ ریاکاروں اور دعویداروں کی بات نہیں۔ سچے صوفیوں کے گرد بھی کثرت سے اہلِ دنیا ہی کو دیکھا۔ عصرِ رواں کے عارف سے ایک بار سوال کیا: لوگ آپ کے پاس کس لیے آتے ہیں۔ بولے: نوے فیصد کارِ دنیا کے لیے۔ پائنتی پر بیٹھے ایک ادھیڑ عمر آدمی نے بے ساختہ کہا: میں بھی انہی میں سے ایک ہوں۔ دل نے گواہی دی: اس آدمی میں حسنِ کردار کی کوئی روشنی ضرورہے،ایسا لگتا تھا کہ براہِ راست اس پہ رحمت کی روشنیاں حصار کئے ہوئے ہیں
معلوم نہیں، کب اور کیسے علائقِ دنیا سے بے نیاز ہوگئے اور ہوتے چلے گئے۔ دنیا کے باب میں جو غنی ہو جائے، وہی درویش ہوتا ہے۔ ہے ورنہ وہ نارسائی کا اعتراف کیوں کرتا۔اہلِ صفا کی صحبت معجزے کر دکھاتی ہے مگر گاہے ان کے ہاں میرے جیسے ادنیٰ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ کچھ دوسرے ایسے عجیب لوگ ہوتے ہیں کہ کبھی کسی استاد سے فیض پایا، نہ اہلِ علم کے ملفوظات سے۔ سلیم الفطرت مگر ایسے کہ ساری زندگی سچائی، سادگی اور صبر میں بتا دیتے ہیں،خواہش ہے کوئی روز آئے ان کے چرنوں میں بیٹھوں اور روحانی آسودگی پاؤں
460