کسی شخصیت کا جب آپ کیلئے احاطہ کرنا مشکل ہوجائے تو اس پر لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں،میرے لئے ملک مبشر احمد خان پر لکھنا ایسا ہی ہے،انہیں جب لیکچر دیتے ہوئے سنیں توان کے نقطہ نظر سے نئے مباحث کا آغاز جنم لیتا ہے،میرے جیسا ادنیٰ لکھاری ان کی بحث اور مدلل انداز میں لیکچر سے ایک نئی فکری تخلیق تک پہنچتا ہے،انصاف کی کرسی تک پہنچنے والوں کو انہیں قافلہ سالار تسلیم کئے بنا چارہ نہیں،اپنے الفاظ کی چاشنی سے مدمقابل کو ایک سحر میں مبتلا کرنے کی صفت ان کی شخصیت کا خاصہ ہے،ان کی تقریر کے لوازم سے پیدا ہونے والی لفظیات و معنیات سے ایک سامع حقیقی معنوں میں بہرہ ور ہوتا ہے،ایسے لگتا ہے وہ سامع کو روایات کی کریز سے باہر نکل کر زندگی کے رنگ و نور میں شریک ہونے کی دعوت دے رہے ہیں ایک تخلیقی وفور جو ایک خاص لمحے کے آہنگ کو مسخر کرلیتا ہے، عصر حاضر میں ملک مبشر احمد خان اس دھرتی کا وہ دانشور ہے جس کے سامنے محرومیوں کے بوجھ تلے رینگتی خواہشوں کی ٹیڑھی قطاریں،ریزہ ریزہ خوابوں کی چبھتی ہوئی کرچیاں،سماجی گھٹن،حبس اور طبقاتی دلدل میں دھنسا معاشرہ ایک حقیقت کا وجود لئے کھڑا ہے،تاریخ انسانی کا مطالعہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض افراد فکری اور ذہنی سطح پر اس درجہ کمال حاصل کرتے ہیں کہ انہیں کسی نظام فکر کی تشکیل کی بنیاد سمجھ لیا جاتا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ استحکام وطن کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک بے غرض و بے لوث کردار کی تشکیل ہے جو پوری طور پر منسلک ہے یہ کردار صرف طاقت و قوت کا مثل،چنگیز و ہلاکو کا حامل نہیں بلکہ اس کی تشکیل اس نظام اخلاق کے اندر ہونا تھی جس میں ایک طرف تو روحانی و اخلاقی اقدار کی پاسداری ہوتی تو دوسری طرف مادی و معاشی حوالے سے یہ مستحکم ہوتا،
کون نہیں جانتا کہ ہم آج ایک کانٹوں بھرے جنگل سے گزر رہے ہیں ہماری روحیں گھائل اور جسم لہو لہاں ہیں اس جنگل کا سلسلہ تاحد ِ نظر دراز نظر آتا ہے،یہ سفر ہے کہ کہیں جاکر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا کہ یہ سفر کہیں ختم ہوگا؟کبھی ختم ہوگا؟ شاید ہاں شاید نہیں!
نہیں اس لئے کہ فی الوقت ہم ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ درخت ایک پھول کا ہو یا کانٹے کا ایک بیج سے اگتا ہے اور ہم نے پھلوں اور پھولوں کے بیج بوئے ہی نہیں تو ہمیں باغ اور بوستاں کہاں نصیب ہوتے ہم نے کانٹے اور پتھر بوئے اور آئندہ بھی ایسے بیج بونے کے تسلسل کی بنیاد رکھ رہے ہیں یقینا قارئین میرے اس تصور کا پس منظر جان گئے ہوں گے کہ ہم نے اہل افرادکی اہلیت کو دانستہ نظر انداز کیا، میرٹ کو بائی پاس کیا!یقینا بدیہی حقیقت یہ بھی ہے کہ نتائج کی بنیاد عمل بھی بنتے ہیں یہ کوئی افلاطون اور ارسطو کا فلسفہ نہیں ایک نہایت سادہ سی بات ہے کہ نتیجے کے غلط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عمل غلط تھا اور عمل کے غلط ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس عمل کو تحریک دینے والی سوچ غلط تھی آج اگر ہم اپنے حال سے مطمئن نہیں تو ہمیں مان لینا چاہیئے کہ ہمار طرز عمل غلط ہے ان حالات میں سیدنا علی المرتضیٰ ؓکا یہ قول ہمیں بار بار دعوت فکر دیتا ہے کہ ”جب تمہارے معاملات حد سے زیادہ بگڑ جائیں تو تمہیں چاہیئے کہ ان کی ابتدا کی طرف نظر کرو“ملک مبشر کی زندگی کورے کاغذ کی مانند ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کتاب زندہ میں ہے کہ ”دنیا کی زندگی آزمائشوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں امتحان دینے والا ایک سوال حل کرتا ہے تو دوسرا سوال اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے“اس قانون ابتلاء کا مقصد حسن عمل کی جانچ کرنا ہے حسن عمل ہی دنیا اور آخرت دونوں حالتوں میں کامیابی کی ضمانت ہے
میں اس ملک مبشر کو جانتا ہوں جو محبِ ملت اور درد مند صاحب ِ فکر ہے جس کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ ”امت مسلمہ کے احوال پر ایک نئی نظر کی ضرورت ہے“ہم تصیحح نیت کو کامیابی کی مکمل ضمانت سمجھ لینے کے بعد تصیحح عمل کی اہمیت سے غافل ہوگئے ملک مبشر احمد خان ایک جواں ہمت بھائی ہے افسوس کہ انہیں دریافت کرنے میں مجھ سے کچھ تاخیر ہوئی،ایک خوشگوار توقع کے ساتھ میں ایک ایسے ملک مبشر احمد خان کو جانتا ہوں جو اپنے چاہنے والوں کے اذہان کے کینوس پر ایک نئے اور نکھرے ہوئے سویرے کی طرح دانش کی روشنی پھیلاتا ہے، جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے کے مصداق جس شعبہ کو بھی جوائن کرتا ہے اپنی کارکردگی سے انقلاب برپا کردیتا ہے
521