اسے سماج سے بالاتر مفادات کے خلاف عوام کا ردِ عمل ہی کہا جاسکتا ہے
اس بحث سے جان چھڑانا خاصا مشکل ہوتا جارہا ہے کہ فیصل آباد کی نشست مسلم لیگ ن کی دسترس سے کیوں نکل گئی؟اسے ناممکنات ہی کہئے کہ سیاسی تجزیہ نگار اپنے اندازوں کے غلط ہونے پر انگشت بدنداں ہیں اس نہج پر قلیل عرصہ میں نفرت کیوں پہنچی؟ووٹروں میں تناؤ نے کیوں جنم لیا؟برسوں کی رفاقت کا بوجھ اتنی عجلت میں اپنے شانوں سے ووٹروں نے کیوں اُتار پھینکا؟
محض اس لیئے کی سرمایہ دارانہ سیاست نے معاشرے کی ساری ٹھاٹھ باٹھ کے تانے بانے اُدھیڑ کے رکھ دیئے مظہر نجمی کے ساتھ لائل پور کی گلیوں میں گھومنا پھرنا کبھی میری زندگی کے پرمسرت لمحات ہوا کرتے تھے عرصہ پہلے یہ شہر کس قدر حسین ہوا کرتا تھا اور اس میں کیا کچھ نہیں ہوا کرتا تھا رات کے کسی پہر گھنٹہ گھر کے چاروں اور سماعتوں کو چھوتے بانسری کے سُر،کھانوں کی بھینی بھینی خوشبو جس کے ساتھ ارد گرد ہر طرف گھومتی پھرتی زندگی،غرض یہ ایسا شہر تھا جو سوتا نہیں تھا اور نہ کبھی اُداس ہوتا تھا مگر اب یہاں آکربے چینی کا احساس گھیر لیتا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ شہر سے روٹھ گیا ہے آج صرف لوڈ شیڈنگ، روپے کی قدر گرنے اور خطرناک حدوں کو چھوتی بیروزگاری فیصل آباد کے ہر باسی کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئے ہے عرصہ بعد اپنے دوست کے ہاں جانا ہوا تو شہر میں داخل ہوتے ہی تمام صورت حال اپنا احساس دلانے لگی یہ ایک دھچکا تھا شہر کا ہر شخص معاشی،سیاسی،سماجی غرض ہر سطح کے بحران کے بارے میں فکر مند نظر آتا ہے میرا قیام جتنے روز رہا میرے ارد گرد ہونے والی تمام گفتگو بیروزگاری،گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ، اور چار ہزار صنعتی یونٹس کی بندش اس سے پیدا ہونے والی مایوس معاشی صورت حال کے بارے میں تھی آ ج ہر طرف ماضی میں خود کو مڈل کلاس کہنے والوں کی مایوسی مجھے محسوس ہو رہی تھی میں جہاں بھی گیا عوام کی گفتگو کا محور و مرکز سیاست،معیشت اور بیروزگاری کے بحران سے باہر نکلنے کی تگ و دو کے سوا کچھ نہیں تھا فیصل آباد میں میرے لیئے اس سطح اور اس طرز کی گفتگو بہت حیران کن تھی کیونکہ کچھ سالوں پہلے تک ان سب لوگوں کے نزدیک سیاست پر گفتگو کرنا ہی سیاسی طور پر غلط عمل ہوا کرتا تھا جب میں عابد شیر علی کے حلقہ کے عوام سے ملا تو مجھے لگا ہمیشہ جاگتے رہنے والے اس شہر کے لوگ اب حقیقتاً بیدار ہو چکے ہیں جو بھی ملا اُس نے حکومتی اقدامات کی کھلے عام مخالفت کی فیصل آباد کی شاہراہوں پر گھومتے ہوئے جو محسوسات جنم لیتے ہیں اُن کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں نے خود کو سماج سے مکمل طور پر بالا تر کر لیا ہے بیروز گاری،بدامنی،مہنگائی،روپے کی قدر میں کمی نے غم و غصے کی لہر کو ملک بھر میں پھیلا دیا ہے اور سیاست دانوں کے بینک بیلنس ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں ریاست ایک ایسے ڈھانچے کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے جو خود ہچکولے کھارہا ہے آئی ایم ایف،ورلڈ بینک جیسے استحصالی اداروں کے قرض سے تعمیر کیئے جانے والے ستون اس ڈھانچے کو کب تک سہارا دیں گے وطن کے وہ لوگ جن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اُن کی جیبیں خالی ہوتی جارہی ہیں میڈیا کے اداکار صورت حال کی صحیح عکاسی کرنے کی بجائے بنیادی عوامی مسائل کو سمجھنے یا اُن کے بارے بنیادی معلومات فراہم کرنے اور حکومتی اقدامات پر تنقید کرنے سے کھلم کھلا چشم پوشی اور بے اعتنائی برت رہے ہیں اتنی عجلت میں عوامی فیصلے کا تبدیل ہو جانا ایک نہایت گھمبیر صورت حال کی عکاسی کرتا ہے عام فرد کی کاروبار کیلئے بے یقینی کی کیفیت بہت بُرا شگون ہوتا ہے25لاکھ سالانہ شرح کے حساب سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے معیشت کا مستقبل کسی طور تابناک دکھائی نہیں دے رہا ذاتی ملکیت کے نظام کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ملکی آبادی کا 35فیصد بیروزگار ی کی بھٹی میں سلگ رہا ہے،وہ شہر جو وطن عزیز کا مانچسٹڑتھا میں صنعتی یونٹ بند ہوتے جارہے ہیں مہنگائی ختم کرنے کے وعدوں کی راکھ اُڑتی دکھائی دے رہی ہے،صنعتی ایریا میں شارٹ فال تک بڑھ چکا ہے انرجی یونٹ مطلوبہ میگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت کے باوجود ضرورت سے کم میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں نجکاری کے تحت روزویلٹ ہوٹل جیسے منافع بخش اثاثے اور ادارے اونے پونے داموں منظور نظر افراد کے نام کیئے جارہے ہیں نجکاری،غربت،مہنگائی،صرف غریبوں کو ڈستی ہے سرمایہ داروں کی مرضی کو لاگو کیا جارہا ہے لندن،زیورک اور نیویارک کے اکاؤنٹس مزید بھرے جارہے ہیں جس سے نام نہاد جمہوریت کا پردہ چاک ہو رہا ہے اور جس بات سے شعوری طور پر چشم پوشی کی جائے وہ حکمران طبقات کا پیچھا نہیں چھوڑا کرتی عوام اور حکمران طبقات کے درمیان سوچوں کا یہ فرق ہی مسلم لیگ ن کی شکست کا باعث بنا ابھی تک یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کب تک محض خواہشوں کے سہارے صورت حال کو چلایا جاسکے گا اس طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیز ترین اضافے کا مذاق جورجیم چینج کے بعد سے عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے اُس پر بھی کسی لیگی نمائندے یا ذرائع ابلاغ کی جھوٹ اگلنے والی مشینوں کے غلیظ چہرے نے کسی نے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا
266