ہم ایک تاریخی معرکے کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کی پیشانی پرایک منصف کی جرات اور جانفشانی کی نئی داستان رقم ہو نے والی ہے۔
ایک فیصلہ کن فتح کے حصول کا خواب جس کی تعبیر میں محب ِ وطن باسیوں کی ماں دھرتی کا حقیقی تصور اُبھر رہا ہے۔برسرِ اقتدار ٹولہ ابھی تک وسوسوں اور ابہام کی سولی پر مصلوب اپنی ناکام خواہشات کی تکمیل میں سرگرداں ہے۔انکار کی جرات سے آزادی کے ٹھوس اور واضح تصورکی تصویر ہمارے پردہ بصارت پر اُبھری جس کے کینوس پر فتح خان کے بیٹے نے انصاف کے رنگ بکھیرے۔جمہوری تہمتوں سے داغدار اور لتھڑا ہوا خاندانی بادشاہت کا نظام جو منافقت کی سہولت کاری کے ستونوں پر لرز رہا ہے جہاں کرائے کے قاتلوں کو اپنی جیت اور جعلسازیوں کیلئے پالا جاتا ہے۔لوٹ مار کرنے والی ایک اقلیت نے اکثریت کیلئے وطن عزیز کو ایک ”وسیع الجثہ قید خانہ“میں بدل دیا ہے جس کی زنجیروں میں جکڑے عوامی شعور اور احساس کی رگ و پے میں حقیقی آزادی کی جستجو مچل رہی ہے۔
جمہوری ٹولہ کے گماشتوں کی دانستہ ہرزہ سرائی اور گراوٹ ذہنی پسپائی کی بدترین مثال ہے۔انصاف کے ایوان سے سہولت کار کی اختراع ایک بار پھر بامعنی لباس زیب تن کرکے سامنے آئی ہے۔
اس کے باوجود ہم ایک تاریخی معرکے کی جانب بڑھ رہے ہیں ایک آغاز کی ابتدا دیکھ رہے ہیں ایک ایسی جرات آمیز للکار جس نے صحن ِ وطن پر چھائے سکوت کے جامد و ساکت ماحول میں ارتعاش پیدا کیا اور عوامی فیصلے کی چادر تان دی ایسے وقت میں جب باری کے کھیل میں دو بڑی پارٹیاں شتر مرغ کی طرح حقائق سے چشم پوشی کر کے لاشوں کا کھیل کھیلتی رہیں،قانون کی دفعات اور آئینی ضابطے محض زیر دست عوام کو محکوم رکھنے کیلئے بناتی رہی ہیں اور اس کھیل میں دو تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کھسک گئی،ان کے عسکری ونگز کی بدولت نہ سفر محفوظ رہا،نہ گھر کی چار دیواری،نہ سکول جاتے بچوں کے پلٹ آنے کی کوئی ضمانت،نہ روزی روٹی کیلئے گھر سے جانے والوں کا تحفظ رہا اور انہی کے زیر سایہ عدالت کی عمارتوں میں بیٹھے شہ نشینوں کے چہروں کی کرختگی سائل کی بے بسی دیکھنے کے بجائے کاغذوں کے پلندوں کے اُلٹ پھیر پر زیادہ یقین رکھتی ہے،جن کے ایوانوں میں آئین کو توڑنے والی وہ ترامیم آئینی ہوتی ہیں جن کو آئینی تحفظ دیا جاتا ہے۔
سیاست میں فیصلوں کا تعین بر وقت نہ ہو تو آپ کی سیاست کا سورج غروب ہو جاتا ہے یہ کریڈٹ پی ڈی ایم کے ٹولے کو جاتا ہے کہ اُس نے اسمبلی کے فلور پر عدالتِ عظمیٰ کے خلاف قرار داد کی ٹائمنگ ایسے وقت چنی جب 23کروڑ عوام عدلیہ کے فخر ملک عمر عطا بندیال کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،محلاتی سازشوں میں جسٹس منیر جیسے کرداروں کی سہولت کاری کے باوجود ن لیگ کا مقدر بد ترین شکست ٹھہری، خوشاب کے بیٹے کی دور اندیشی نے وقت کی پیشانی پر فتح کے آثار نمایاں کر دیئے ہیں یہ اُس کے مبنی بر انصاف فیصلے کا شاخسانہ ہے کہ اندر کے خوف نے ن لیگ سے 23کروڑ عوام کی حمایت چھین لی،بوکھلاہٹ میں انسان غلط اور عوام دشمن فیصلوں کے تسلسل کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑتا ہے اور قدم قدم پر ٹھوکریں اس کا مقدر بن جاتی ہیں، عوام کی عزت نفس کا سودا کرنے والوں کے سامنے عمر عطا بندیال کا کردار ایک ڈھال بن کر کھڑاہوگیا، آج وطن عزیز کی نمائندگی اور دستار کا حقدار اور عوام کی ریڈ لائن عمر عطا بندیال ہے جس نے انصاف کے سر پر رکھی دستار کو سلامت رکھا،کسی بھی فیصلہ میں دعا خیر خوشاب کے علاقہ کی ایک خوبصورت روایت ہے جس میں رب ِ ذوالجلال کی کبریائی کا ادراک کیا جاتا ہے عمر عطا بندیال نے ہمیشہ اپنے فیصلوں کی ابتدا دعائے خیر سے کی یہی وجہ ہے کہ رب کائنات اسے عزت سے نوازتا رہا اور خدا کی رضا اس کے حالیہ فیصلہ کی ابتدا بنی،مگر 1997میں عدلیہ پر حملہ آور ٹولے نے ایک بار پھر اپنے مذموم ارادوں سے عدلیہ کے وجود میں دراڑ ڈال کر اپنے مفادات کی آبیاری چاہی،وہ سیاست جس نے اپنا ضمیررجیم چینج کے تحت چیتھڑے،چیتھڑے کرکے اقتدار کے کھونٹے پر ٹانگ دیا شاید اس بات سے نابلد ہے کہ وطن عزیز کی فضا پر چھایا سکوت اور جمود عمر عطا بندیال کیلئے عوامی طاقت اور حمایت کی شکل میں سول آمریت کے حصار کو پھاڑ کر باہر نکلے گا،ایک خود ساختہ قرار داد جو ردی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی نے سیاست کے چہرے سے فریب کا بچا کھچا نقاب بھی اُتار پھینکا،
مفادات کی پچ پر کھڑا پی ڈی ایم کا ٹولہ ایک بار پھر سرمائے کے شیر کی آدم خوری کو نظریہ ضروت کے تحت عوام پر مسلط کرنے کی تگ و دو میں ہے کہیں ”ووٹ کو عزت دو“کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے تو کہیں دیہاڑی دار وں کو ٹرالیوں میں لاد کر عوام کا جعلی پاور آف شو دکھا کر وطن عزیز کے باسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں،
مگر اس کے باوجود قوم ایک منصف کے فیصلہ میں فیصلہ کن فتح کے حصول کا خواب دیکھ رہی ہے۔ایک منصف کیلئے عوام کا سیلِ رواں گلی گلی اور کوچہ کوچہ نکلنے کیلئے بے تاب ہے،جعلی حکمرانی کا ٹولہ جان لے کہ وقت کی آنکھ عوام کا ایک ایسا طوفان دیکھ رہی ہے جو کسی مقام پر رکتا اور تھمتا دکھائی نہیں دیتا،23کروڑ عوام کو سیاسی میدان سے پرے دھکیلنے کی ناکام خواہش دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔پہلی بار عوام وطن کا سودا کرنے والے اقتدار کے نہیں سچ کے ساتھ کھڑی ہے،عوام نے اپنا سارا اعتماد عمر عطا بندیال کی جھولی میں ڈال دیا ہے آج میں دیکھ رہا ہوں کہ عوام مفادات کے رشتوں کو توڑ چکے،
288