479

کیا یہ جمہوریت کا چہرہ ہے؟

 کیا ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں اختلاف رائے اور تنقید ملک دشمنی کا روپ دھار چکی ؟۔شہباز گل،ارشد شریف،صابر شاکر،سمیع ابراہیم،عمران ریاض خان اور پھر ایک بڑے ٹی وی چینل اے آر وائی کے سچ کا گلا گھونٹنا کیا یہ جمہوریت کا چہرہ ہے؟ 
دنیا کا ہر معاشرہ، ہر ملک اور ہر ادارہ و تنظیم اختلاف رائے کو تسلیم کرنے کے قائل ہیں۔اختلاف ا ور تنقیدکے آئینہ میں اپنی اصلاح و تطہیر کاکام کرتے ہیں۔مہذب معاشروں اور اداروں میں اختلاف رائے کو زندگی کی علامت سمجھاجاتا ہے اور بعض اوقات اس کیلئے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے، خاص کر حکمراں جماعت اوراس سے وابستہ رہنماؤں کے کام کاج پر تنقید کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جارہا۔حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولنا گویا ملک کے خلاف بولناہوگیا۔ہم اپنے غلیظ ماضی سے آج تک چمٹے ہوئے ہیں جس کے تناظر میں جھانکیں تو ضیاء رجیم نے کیا کچھ نہیں کیا آج اس کی باقیات اپنی پالیسیوں اور رویوں کے خلاف ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتی۔ان کی کوشش یہ ہے کہ اول تو کوئی اختلاف کی جرات ہی نہ کرے اور اگر کسی نے یہ ہمت کربھی لی تو ہر ممکن کوشش کیجائے  کہ اسے نشان عبرت بنادیا جائے۔ایک شخصی پارٹی جس کا سورج نصف النہار سے زوال کے گھٹا ٹوپ میں اپنا منہ چھپانے کو ہے پارٹی کے اندرونی افراد ہوں یا باہرکے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے لیڈران اختلاف رائے کے معاملے میں سبھی کو ایک لکڑی سے ہانکا جاتا ہے 
جمہوریت مغرب سے درآمد ایک طرز حکمرانی ہے جسے اگر اس کی مکمل روح کے ساتھ نافذ کیاجائے تو معاشرہ میں ترقی، خوش حالی، امن و امان اور چین و سکون کادور دورہ ہو جہاں ملک کا ہرشہری حکمرانی میں خود کو بالواسطہ شریک محسوس کرتا ہے، اس کے برخلاف اگر جمہوریت کو صرف حکومت سازی اور اقتدارولوٹ مار کا ذریعہ سمجھاجائے تو ہوتا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے ہمارے ہاں  نظرآرہاہے۔ اقتدار کیلئے مطلوب جادوئی ہندسہ تک رسائی کیلئے ایک سیاسی جماعت  اخلاقی پستی کی ارزل سطح پر جاپہنچی۔ایک ایسی جمہوریت سیاسی کھلاپن کے نام پر دھوکے باز، بدعنوان، جرائم پیشہ افرادحتیٰ کہ قتل، اغوا، عصمت دری، ڈاکہ زنی، منشیات فروشی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کی گندگی بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ضیاء رجیم حکومت میں آنے کے بعد جمہوریت کا بستر سمیٹ کر طاق پر رکھ دیاجاتا ہے۔ حکمرانی کا کروفر دیکھ کر جمہوریت خواب و خیال محسوس ہونے لگتی ہے۔ جمہوری اخلاقیات کا تصور تک ختم ہوجاتا ہے۔لیکن مغرب جہاں سے ہم نے جمہوریت کو مستعار لیا، آج بھی اسے مکمل روح کے ساتھ نافذ رکھنے میں کامیاب ہے۔ بدعنوانی، اقرباپروری، بے جاطرفداری اور مذہب وذات پات کی بنیاد پر سیاسی اکثریتی طبقہ کی تشکیل جیسے اژدھے قابو میں ہیں اور معاشرہ اپنی تمام تر اخلاقی کمیوں، خامیوں وکھلے پن کے باوجود جمہوریت اور اچھی حکمرانی کے ثمرات سے بہرہ و ر ہورہاہے۔
یہ جمہوریت کا ہی فیضان ہے کہ ایک معمولی سی غلطی کی وجہ سے برطانیہ عظمیٰ کے وزیراعظم بورس جانسن کو استعفیٰ دینا پڑگیا۔استعفیٰ دینے کے بعد نہ تو ان کے ماتھے پر کوئی شکن آئی  اورنہ اقتدار گنوا دینے کا کوئی غم ان کے چہرہ پر جھلکا۔اس کے برخلاف بورس جانسن اپنی غلطی پر نادم، اپنے ملک کو یورپ کا سب سے خوشحال ملک بنانے کے عزم کے خواہاں نظر آئے۔بورس جانسن کے استعفیٰ کی وجہ ان کا ایک غلط فیصلہ بنا۔ا نہوں نے اپنی کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کرسٹوفرجان پنچر(کرس پنچر) کو پارٹی کا ڈپٹی چیف وہپ آفیسر مقرر کردیا جن پر جنسی بدتمیزی کا الزام تھا۔ان کے اس فیصلہ کی وجہ سے ان کے رفقائے کار اور کابینہ کے اراکین ناراض ہوگئے۔ہرچند کہ کرس پنچر کو بھی کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے معطل کر دیا گیا۔ لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ ساتھی وزرا کی ناراضگی بڑھتی گئی اور کئی ایک وزرا نے استعفیٰ تک دے دیا۔ مستعفی ہونے والے وزرا کا الزام ہے کہ بورس جانسن نے کرس پنجر کے خلاف الزامات کو جانتے ہوئے جان بوجھ کر ان کو پارٹی میں اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا۔ وزیراعظم جانسن نے بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پنچر کی تقرری پر عوامی طور پر معذرت کی۔ یہ ان کی اخلاقی فتح تھی کیا  یہ اعتراف قابل ستائش نہیں  کہ پارلیمنٹ کے ایک داغدار رکن کو حکومت میں اہم عہدے پر مقرر کرنا غلط تھا۔لیکن ا ن کا یہ اعتراف اور معافی بھی کابینی رفقا کی ناراضگی دور کرنے میں ناکام رہی اور کابینہ کے بیشتر اراکین نے ان کے خلاف بغاوت کردی۔
برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف ان کے ساتھیوں کی ناراضگی اور بغاوت سیاست اور جمہوریت میں اقتدار پر اخلاقیات کی برتری کی روشن مثال بنی۔اس کے برعکس  ہمارے ہاں  جمہوریت کا منظر نامہ کچھ اور ہی ہے۔ دو بڑی پارٹیاں بدعنوان، گھناؤنے اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو چن چن کرنہ صرف انتخاب میں امیدوار بنانے پر مصر رہتی ہیں بلکہ کامیابی کے بعد ان کے سروں پر وزارت کاتاج بھی سجانے کی خواہاں، ایسے وزیر باتدبیر جو گل کھلاتے ہیں، اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتاہے۔ اس طرح کی مثالوں سے ہماری  سیاست کی تاریخ بھری پڑی ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے تو قدم قدم پر یہی صورتحال نظرآرہی ہے۔ارکان پارلیمنٹ کی دو تہائی تعداد پر قتل، اغوا، چوری، ڈاکہ زنی اور دیگر گھناؤنے اخلاقی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے تو کابینہ کے وزرا اوران کے ارکان پر ایسے ایسے سنگین الزام کہ خدا کی پناہ۔فیصل آباد میں ایک ڈاکٹر طلبہ کو جوتے چاٹنے پر مجبور کردیا گیا،ماڈل ٹاؤن میں نہتی عورتوں کے منہ میں گولیاں اتارنے والے دندناتے پھر رہے ہیں اس کے باوجود یہاں راوی چین لکھ رہا ہے۔ مرکز ہو یا صوبہ سب کی جدوجہد  اونچی کرسی تک پہنچنے کیلئے ہوتی ہے اوہمارے ہاں ناراضگی بھی اچھے محکموں اور وزارت تک رسائی کا ذریعہ۔ تازہ ترین مثال چوہدری طارق بشیر چیمہ کی ٹھہری ۔75برس کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کا نام لے کر جمہوریت کی روح پر وار کیاگیا اور ایک منتخب حکومت گرا کر دوسری غیر اخلاقی اور غیر جمہوری حکومت قائم کی گئی۔سیاسی منافقت اور اقتدار کی اس تڑپ اور ہوس پر اگرا خلاقیات کا پہرہ نہ لگا تو جمہوریت بھی ’اچھے دن‘ نہیں دیکھ سکتی۔خود کو جمہوریت کا علم بردار سمجھنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بورس جانسن کے استعفیٰ سے ضرور سبق لینا چاہیے

بشکریہ اردو کالمز