جن کے پاس قلم ہے وہ اس کی طاقت سے نابلد ہیں،جن کے منہ میں زبان ہے وہ اس کی درازی سے بے خبر ہیں اور جن کے پاس بینائی ہے وہ اس کی حدود سے لاعلم ہیں،بولتے ہوئے لوگ بکنے لگتے ہیں اور دیکھنے والی آنکھیں تصویر کے دوسرے رخ کا گمان بھی نفی میں کر لیتی ہیں
ارسطو نے اپنی نسلوں کیلئے”اعتدال خیرالامور“کا کلیہ وراثت میں چھوڑا تھا خوش گوار صورت حال عدم توازنی سے بگڑ جاتی ہے ہم میں سے اکثر قلمکاروں کا کرب یہ ہے کہ ان کا ذہن اکثرو بیشتر قلم کے تقدس کا پاس بھی نہیں رکھ پاتا،غلط تخمینے افراد اور اقوام کی شکلیں مسخ کردیتے ہیں یہ ایک خطرناک صورت ہے ممکن ہے ہم نے کبھی اس سنگین مسئلے پر غور نہ کیا ہو مگر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جملہ شعبوں میں اس کی مضرت کے اثرات نظر آتے ہیں،محسوس کئے جاسکتے ہیں،ہر شخص کا اپنا قد ہوتا ہے اور ایک خاص صورت حال سے مشروط!
افراد اور قومیں غلط تخمینے قائم کرکے فیصلے کرنے لگیں تو قومی زندگی میں رخنے پیدا ہوجاتے ہیں اور ارتقاء کا عمل رک جاتا ہے،تخمینے کی یہ غلطی نہ صرف بڑے آدمیوں کا قد چھوٹا کر دیتی ہے بلکہ اکثر انہیں پیش منظر سے پس منظر میں دھکیل دیتی ہے تخمینے کی یہی غلطیاں انگریزوں سے سرزد ہوئیں تو وہ مشرق ِ بعید،ایشیا ء اور افریقہ سے بے دخل ہوتے چلے گئے،یہ غلطیاں مشرقی پاکستان کے المیے کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں اور گھروں میں گھریلو زندگی کا شیرازہ منتشر کردیتی ہیں،بچے گستاخ اور بزرگ بے لحاظ ہوجاتے ہیں،ایشیا اور افریقہ کو اسی بیماری نے موت کے کنارے پہنچا دیا تھا ہاں ہماری قدیم اور زندہ تہذیبوں نے ایشیا ہی میں جنم لیا مگر اس غمزے نے ہمیں جدید عہد کے تقاضوں سے دور رکھا اور کوئی کام نہیں کرنے دیا،ہم ملامت کرتے رہے اور دوسری قومیں جن کاماضی سپاٹ تھا پیش قدمی کرتی رہیں۔یہ تمہید مجھے اس وقت پیش آئی جب ایک قلم کار نے تحقیق کا دامن ہاتھ سے چھوڑا اور حوصلہ افزائی کی حوصلہ شکنی کی
گجرات جیل واقعہ میں موصوف رقمطراز ہیں کہ ”اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر سینئر اہلکار قیدیوں کے ساتھ مسلسل بد سلوکی کرتے رہے ہیں،رشوت دینے پر مجبور کرتے رہے ہیں“
قارئین یہ حقیقت ہے کہ عصرِ حاضر میں پنجاب میں ایک ایماندر،فرض شناس آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان نے جن انقلابی اصلاحات کی بنیاد ڈالی ان کا ڈنکا وطن عزیز میں بج رہا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان کے آئی جیز جیل خانہ جات نے ان کی مثالی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے باقاعدہ ان سے ملاقات کی اور ان کا وژن لیکر یہاں سے روانہ ہوئے اور اگر ہم ان کی محکمہ جیل خانہ جات میں تبدیلیوں کے حوالے سے صرف نظر کریں تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی پنجاب بھر کی جیلوں میں انہوں نے جیل کے اندر اسیران کے مسائل اور شکایات کے ازالے کی خاطر اپنا ذاتی سیل نمبر نمایاں جگہوں پر آویزاں کرایا اور یہ عملی قدم اُٹھایا کہ پہلی بار آئی جی آفس میں شکایات سیل فعال ہوا ان کے اس اقدام نے جیل کے ہر اسیر کی ان کے ذاتی نمبر تک رسائی کو یقینی بنایا،جبکہ پنجاب کی ہر جیل کے اندر ایک پی سی او قائم ہے جہاں سے کوئی بھی قیدی اپنے مسئلہ اور شکایت کو ان کے گوش گزار کر سکتا ہے اس وقت پنجاب بھر کی جیلوں میں 4500سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جو محض اس مقصد کے پیش نظر نصب کئے گئے ہیں کہ ملاقاتیوں سے لیکر اسیران و اہلکاران کی ہمہ اقسام حرکات و سکنات کو ہیڈ آفس میں مانیٹر کیا جاسکے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز بھکر جیل میں ملاقات شیڈ میں مذکورہ جیل کے ایک اہلکار امیر عباس کو رشوت لیتے ہوئے سنٹرل کنٹرول روم کے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے مانیٹر کرتے ہوئے ملک مبشر احمد خان نے تادیبی کارروائی کی اور معطلی کی سزا دی علاوہ ازیں NRTCپر مامور اہلکاران ملاقات پر آئے ملاقاتیوں اور اندرون جیل اسیران کو دوران ملاقات مانیٹر کر رہے ہوتے ہیں جہاں رشوت لیتے ہوئے،حتیٰ کہ اسیران کی بحث و تکرار کو سکرین پر اجاگر ہونے کے واقعہ تک سے آفیسر بالا کو آگاہ کرتے ہیں کیمرہ جات میں قیدی کے لواحقین کے جیل داخلے سے لیکر ملاقات تک سی سی ٹی وی کیمروں پر فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کی نظر ہوتی ہے مانیٹرنگ کے مذکورہ بالا سسٹم کے باوجود قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کو ایک مضحکہ خیز تمہید ہی قرار دیا جا سکتا ہے جہاں تک گجرات واقعہ کی انکوائری کمیٹی میں اے آئی جی جیل لاہور،سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک،سپرنٹنڈنٹ جیل سیالکوٹ،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد ریجن پر موصوف لکھاری کا نکتہ اعتراض ہے تو اس کا پس منظر یہ ہے کہ کسی بھی شعبہ میں پائے جانے والے مسائل سے متعلقہ شعبہ سے منسلک افراد سے زیادہ بہتر آگاہی کوئی نہیں رکھتا،اے آئی جی لاہور سے لیکر سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک،سپرنٹنڈنٹ جیل سیالکوٹ،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد ریجن تک کوئی بھی حال میں گجرات جیل سے منسلک نہیں اے آئی جی کی پوسٹ سے لیکر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل تک گراس روٹ لیول تک انکوائری کمیٹی کا دائرہ کار پھیلا ہوا ہے جن کو معلوم ہے کہ ہم نے ایک غیر جانبدارانہ رپورٹ ایک فرض شناس اور ایماندار منتظم کے سامنے رکھنا ہے جو اپنے سورسز سے بھی اس واقعہ کی انکوائری میں سرگرداں ہے جب کسی ادارہ میں سربراہی کی نشست پر ایک محب وطن آفیسر متمکن ہو تو سزا سے بچانے کے کلچر کا چہرہ دھندلا جاتا ہے،کالم ہذا میں ایک استدلال یہ نظر آیا کہ”جن کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں انہوں نے جیل کے اندر موبائل فون بھی رکھے ہوئے ہیں“پنجاب بھر کی جیلوں میں جرائم پیشہ اور خطرناک قیدیوں کی وجہ سے جیمرز لگے ہوئے ہیں جن کی رینج in coming اور Out Goingجیل کی باؤنڈری سے ایک کلومیٹر تک ختم ہوجاتی ہے چہ جائیکہ جیل میں موبائل سگنل ہوں ایک استدلال یہ ہے کہ ”جن غریبوں کا آگا پیچھا نہیں وہ جیلوں میں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں،انہیں ٹھوکریں پڑتی ہیں بدترین خوراک ملتی ہے“صرف ایک فقرے پر بحث کو ترجیح دوں گا کہ یہ میری طرف سے دعوت ہے جیل جاکر کھانے کا معیار اور مینو خود چیک کریں موجودہ آئی جی جیل خانہ جات کی تعیناتی سے قبل مرغی کا گوشت باہر سے آتا تھا اب متعلقہ جیل آفیسر کی نگرانی میں مرغی کو ذبح کیا جاتا ہے جس کی مانیٹرنگ سی سی ٹی وی کیمرہ جات پر آئی جی آفس میں ہوتی ہے،تحریر میں ایک استدلال یہ نظر آیا کہ”ان بچوں کی زندگی کا ندازہ کیجئے جو جیل میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنی ماؤں کے ساتھ بچپن جیل میں گزارتے ہیں“اس ضمن میں کہنا ہے کہ اس میں نہ تو کوئی جیلر ذمہ دار ہے اور نہ ہی کوئی بالا آفیسر قصور وار ہے کیونکہ PPRکے مطابق شیر خوار بچوں کو بھی ماں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اور ملک مبشر احمد خان نے ان بچوں کی تعلیم و تربیت کی خاطر کونسا بڑا اقدام اُٹھایا ہے اس پر اگلے کالم میں تفصیل دوں گا،
439